موسموں میں بہار اور موسم کی رنگینیوں میں بہار کی برکھا لوگوں کو بہت مرغوب رہی ہے۔ یہ موسم پھولوں کا اور برکھا کی رت من متوالوں کا من بھایا لمحہ ہوتی ہے۔ پیار کے جوگی ان لمحوں میں زیست کی تازگی، حسن کی رعنائی اور روح کی تاثیر کو رہ رہ کر محسوس کرتے ہیں۔
ہماری تہذیب میں بارش کو ایک خاص مقام حاصل ہے۔ ہمارے ہاں بہار کی برکھا، جسے سائنس والے اکارت سے مون سون اور ایمان والے ابر نیسان کہتے ہیں، ہمارے ہاں گرمیوں کی بارش کہلاتی تھی، بڑے کہا کرتے تھے کہ اس بارش میں بچوں ننگ دھڑنگ گھومنا عین کار ثواب سمجھا جاتا تھا۔ بڑے بھی چھتری نہیں تانتے تھے۔ بچے ان دنوں میں ایک برکھارت میں گلیاں گلیاں ہلڑ کرتے دھماچوکڑی مچا دیتے تھے اور بیک زبان ایک خاص دعا بھی مانگتے تھے۔
اے خدا،
بادل کاٹ کر ادھر پھینک دے،
بادل کاٹ کر ادھر پھینک دے،
غریب و غرباء کو ٹھنڈ نہ لگنے دینا،
یتم و فقراء کو بھوک نہ لگنے دینا،
ہمیں دھوپ کوئی عطا کرو ۔۔۔۔!!
غالبا، ایسے کچھ بول تھے۔ لگتا ایسا تھا کہ خدا سن لیتے تھے، تھوڑی دیر بعد دھوپ نکلتی تھی۔ بادلوں سے چھنتی دھوپ کی تمازت بھی بھلی لگتی تھی۔ گیلی مٹی سے اٹھتی بھینی بھینی خوشبو من کو مست کر دیتی تھی۔ بچونگڑے قیمض اتارے سراپا بھیگ کر پانی پانی ہوئے گلی گلی شور مچاتے پھرا کرتے تھے۔
جس سال بارشوں کی قلت ہوتی، دانا و زعما اسے منحوس سال قرار دیتے تھے۔ معمولی معمولی بد تہذیبیوں پر یہی طعنہ دیتے تھے کہ انہی بدکاریوں کی وجہ سے آسمان سے اوس بھی نہیں ٹپکتی، اگر توبہ تائب نہ کرے تو درختوں کی چھال کترتے رہ جاو گے۔
جن دنوں میں فراز صاحب کو بارش سے شکایت رہی ان دنوں میں ہمارے بھی مکان کچے ہوتے تھے، باقیوں کے اب پکے ہوئے ہوں گے مگر میرا آج بھی کچا ہے۔ گویا آج بھی جب موسلا دھار بارش برستی ہے میں چھت پر نکل کر نکاس کی نالیاں صاف کرتا، چمنیوں کو ڈھکتا اور جہاں جہاں پانی جمع ہو جائے وہاں مٹی ڈالا کرتا ہوں۔ خصوصا شب کے پچھلے پہر کی اچانک بارش جب چھت سے ٹپک ٹپک کر ٹپ ٹپ اندر گرتی ہے اور بحالت چشم نیم خوابیدہ و نیم کش چھت پر چڑھتے ہیں اور سر پولی تھین کے لفافے سے ڈھک کر جانا پڑتا ہے اور ترپال بچھانا اس لئے جوکھم بھرا کام ہوتا ہے کیونکہ اس میں آدمی مکمل طور پر بھیگ جاتا ہے۔ جب بچپن میں ابو کے ساتھ جاتے تھے تو ایڈونچر لگتا تھا اب اپنے بچے کو لے کر جاتے ہوئے ترس آتا ہے۔
دوسری بات بارش کے تھمتے ہی آسمان پر بہت وسیع کمان کی صورت میں دھنگ رنگ قوس و قزح تن جاتا تھا۔ اس کا ایک سرا ہمیشہ دریا پر جھکا نظر آتا تھا۔ کچھ لوگ کہتے تھے کہ زلیخا نامی پری وہاں سے پانی پینے ساحل پر اترتی ہے اور جو بھی شخص اس وقت دریا کنارے جا کر اس پری سے وہ سونے کا کٹورا مانگ لے وہ پری دریا کے کنارے کٹورا اس کے لئے چھوڑ جاتی ہے۔ اس سلسلے میں بھی ہم چند دوست کئی بار ساحلوں کی ریت چھان چکے ہیں۔ مگر زلیخا نے ہماری کبھی ایک نہ سنی۔۔۔۔!
بارشوں کے ایام و اوقات سے بھی سال و سن کے شگون کا فال نکالتے تھے۔ درختوں پر پھول لگنے، فصل اٹھانے، خوشے سکھانے، چراگاہیں کاٹنے اور فصل ریبع کی کاشت میں بارش پڑنے کو صریح بدشگونی قرار دیتے تھے۔
ریبع کی بوائی، کاشت کاری اور فصلوں کی کٹائی کے لئے مسجدوں سے ایام نیک کی نیک ساعتیں نکال کر اعلان ہوتے تھے اس میں دن، وقت اور سمت تک کا تعین ہوتا تھا۔ پھر بھی پہلے ہل جوتنے والا بڑی جسارت سے کاشت کاری شروع کرتے تھے۔ جانے اس کے درپردہ ایسی کیا بات ہے ہمارے گاوں میں دو چند ایسے نیک اختر آج بھی ہیں جو بیل جوت کر نکل کیا پڑتے ہیں آسمان کا چہرہ اتر جاتا ہے۔
یہاں کے کسی گاوں کا ایک واقعہ اس طرح بھی مشہور ہے کہ اس گاوں کے ایک کسان کے ساتھ ہر بار ایسا ہوتا تھا کہ جیسے ہی وہ بیج نکال کر نکل پڑتا گرج چمک کے ساتھ بادل گرجنے لگتے تھے۔ اسے اس بات کو لے کر بڑی شرمندگی ہوتی تھی۔ گاوں بھر میں اسی وجہ سے وہ خوب بدنام بھی تھا کہ وہ ایک بدشگون شخص ہے۔ اس بات کو لے کر وہ دل ہی دل میں کڑھتا بھی رہتا تھا۔
ایک بار اس نے سوچا کہ بیج کو ٹین میں ڈال کر لے جانے کی بجائے وہ کسی بوریا میں ڈال کر کھیت کی طرف نکل پڑیں گے ہوسکتا ہے کہ دیکھنے والا یہ نہ سمجھے کہ وہ بیج بونے لے جا رہا ہے۔ بہر کیف، صاف ستھرا موسم تھا۔ اس کسان سے رہا نہ گیا، وہ پیشگی منصوبے کے عین مطابق بوریا میں کچھ بیج ڈال کر شانوں پر رکھ کر نکل پڑا۔ بس بمشکل چند قدم چلے تھے کہ آسمان کا موڈ بدلنے لگا۔ کسان دل ہی دل میں پسیجا اور دانت پیس کر رہ گیا۔ اگلے ہی لمحے بادل گرجنے لگے۔ جب گڑگڑ کی آواز بلند ہونے لگی، کسان نے بوریا زمین پر پھینکا اور آسمان کی جانب منہ کرکے بولا؛
"تمہارے پیٹ میں کیوں مڑوڑ اٹھ رہا ہے، میں تو بس ذرا چکی تک گندم پسوانے لے جا رہا ہوں" ۔۔۔۔!!!
اب سائنس کا زمانہ ہے۔ کل بارش ہوگی، کل نہیں، یہاں ہوگی یہاں نہیں اور کیا کیا ہوگا وہ بچہ بچہ انٹرنیٹ سے دیکھ لیتا ہے۔ مگر ہمارے چند بزرگ آج بھی ہے جو اپنی بدشگونی سے گوگل اور دیگر ایپس کو بخوبی چکمہ دے سکتے ہیں۔۔۔ !!!
x
ہماری تہذیب میں بارش کو ایک خاص مقام حاصل ہے۔ ہمارے ہاں بہار کی برکھا، جسے سائنس والے اکارت سے مون سون اور ایمان والے ابر نیسان کہتے ہیں، ہمارے ہاں گرمیوں کی بارش کہلاتی تھی، بڑے کہا کرتے تھے کہ اس بارش میں بچوں ننگ دھڑنگ گھومنا عین کار ثواب سمجھا جاتا تھا۔ بڑے بھی چھتری نہیں تانتے تھے۔ بچے ان دنوں میں ایک برکھارت میں گلیاں گلیاں ہلڑ کرتے دھماچوکڑی مچا دیتے تھے اور بیک زبان ایک خاص دعا بھی مانگتے تھے۔
اے خدا،
بادل کاٹ کر ادھر پھینک دے،
بادل کاٹ کر ادھر پھینک دے،
غریب و غرباء کو ٹھنڈ نہ لگنے دینا،
یتم و فقراء کو بھوک نہ لگنے دینا،
ہمیں دھوپ کوئی عطا کرو ۔۔۔۔!!
غالبا، ایسے کچھ بول تھے۔ لگتا ایسا تھا کہ خدا سن لیتے تھے، تھوڑی دیر بعد دھوپ نکلتی تھی۔ بادلوں سے چھنتی دھوپ کی تمازت بھی بھلی لگتی تھی۔ گیلی مٹی سے اٹھتی بھینی بھینی خوشبو من کو مست کر دیتی تھی۔ بچونگڑے قیمض اتارے سراپا بھیگ کر پانی پانی ہوئے گلی گلی شور مچاتے پھرا کرتے تھے۔
جس سال بارشوں کی قلت ہوتی، دانا و زعما اسے منحوس سال قرار دیتے تھے۔ معمولی معمولی بد تہذیبیوں پر یہی طعنہ دیتے تھے کہ انہی بدکاریوں کی وجہ سے آسمان سے اوس بھی نہیں ٹپکتی، اگر توبہ تائب نہ کرے تو درختوں کی چھال کترتے رہ جاو گے۔
جن دنوں میں فراز صاحب کو بارش سے شکایت رہی ان دنوں میں ہمارے بھی مکان کچے ہوتے تھے، باقیوں کے اب پکے ہوئے ہوں گے مگر میرا آج بھی کچا ہے۔ گویا آج بھی جب موسلا دھار بارش برستی ہے میں چھت پر نکل کر نکاس کی نالیاں صاف کرتا، چمنیوں کو ڈھکتا اور جہاں جہاں پانی جمع ہو جائے وہاں مٹی ڈالا کرتا ہوں۔ خصوصا شب کے پچھلے پہر کی اچانک بارش جب چھت سے ٹپک ٹپک کر ٹپ ٹپ اندر گرتی ہے اور بحالت چشم نیم خوابیدہ و نیم کش چھت پر چڑھتے ہیں اور سر پولی تھین کے لفافے سے ڈھک کر جانا پڑتا ہے اور ترپال بچھانا اس لئے جوکھم بھرا کام ہوتا ہے کیونکہ اس میں آدمی مکمل طور پر بھیگ جاتا ہے۔ جب بچپن میں ابو کے ساتھ جاتے تھے تو ایڈونچر لگتا تھا اب اپنے بچے کو لے کر جاتے ہوئے ترس آتا ہے۔
دوسری بات بارش کے تھمتے ہی آسمان پر بہت وسیع کمان کی صورت میں دھنگ رنگ قوس و قزح تن جاتا تھا۔ اس کا ایک سرا ہمیشہ دریا پر جھکا نظر آتا تھا۔ کچھ لوگ کہتے تھے کہ زلیخا نامی پری وہاں سے پانی پینے ساحل پر اترتی ہے اور جو بھی شخص اس وقت دریا کنارے جا کر اس پری سے وہ سونے کا کٹورا مانگ لے وہ پری دریا کے کنارے کٹورا اس کے لئے چھوڑ جاتی ہے۔ اس سلسلے میں بھی ہم چند دوست کئی بار ساحلوں کی ریت چھان چکے ہیں۔ مگر زلیخا نے ہماری کبھی ایک نہ سنی۔۔۔۔!
بارشوں کے ایام و اوقات سے بھی سال و سن کے شگون کا فال نکالتے تھے۔ درختوں پر پھول لگنے، فصل اٹھانے، خوشے سکھانے، چراگاہیں کاٹنے اور فصل ریبع کی کاشت میں بارش پڑنے کو صریح بدشگونی قرار دیتے تھے۔
ریبع کی بوائی، کاشت کاری اور فصلوں کی کٹائی کے لئے مسجدوں سے ایام نیک کی نیک ساعتیں نکال کر اعلان ہوتے تھے اس میں دن، وقت اور سمت تک کا تعین ہوتا تھا۔ پھر بھی پہلے ہل جوتنے والا بڑی جسارت سے کاشت کاری شروع کرتے تھے۔ جانے اس کے درپردہ ایسی کیا بات ہے ہمارے گاوں میں دو چند ایسے نیک اختر آج بھی ہیں جو بیل جوت کر نکل کیا پڑتے ہیں آسمان کا چہرہ اتر جاتا ہے۔
یہاں کے کسی گاوں کا ایک واقعہ اس طرح بھی مشہور ہے کہ اس گاوں کے ایک کسان کے ساتھ ہر بار ایسا ہوتا تھا کہ جیسے ہی وہ بیج نکال کر نکل پڑتا گرج چمک کے ساتھ بادل گرجنے لگتے تھے۔ اسے اس بات کو لے کر بڑی شرمندگی ہوتی تھی۔ گاوں بھر میں اسی وجہ سے وہ خوب بدنام بھی تھا کہ وہ ایک بدشگون شخص ہے۔ اس بات کو لے کر وہ دل ہی دل میں کڑھتا بھی رہتا تھا۔
ایک بار اس نے سوچا کہ بیج کو ٹین میں ڈال کر لے جانے کی بجائے وہ کسی بوریا میں ڈال کر کھیت کی طرف نکل پڑیں گے ہوسکتا ہے کہ دیکھنے والا یہ نہ سمجھے کہ وہ بیج بونے لے جا رہا ہے۔ بہر کیف، صاف ستھرا موسم تھا۔ اس کسان سے رہا نہ گیا، وہ پیشگی منصوبے کے عین مطابق بوریا میں کچھ بیج ڈال کر شانوں پر رکھ کر نکل پڑا۔ بس بمشکل چند قدم چلے تھے کہ آسمان کا موڈ بدلنے لگا۔ کسان دل ہی دل میں پسیجا اور دانت پیس کر رہ گیا۔ اگلے ہی لمحے بادل گرجنے لگے۔ جب گڑگڑ کی آواز بلند ہونے لگی، کسان نے بوریا زمین پر پھینکا اور آسمان کی جانب منہ کرکے بولا؛
"تمہارے پیٹ میں کیوں مڑوڑ اٹھ رہا ہے، میں تو بس ذرا چکی تک گندم پسوانے لے جا رہا ہوں" ۔۔۔۔!!!
اب سائنس کا زمانہ ہے۔ کل بارش ہوگی، کل نہیں، یہاں ہوگی یہاں نہیں اور کیا کیا ہوگا وہ بچہ بچہ انٹرنیٹ سے دیکھ لیتا ہے۔ مگر ہمارے چند بزرگ آج بھی ہے جو اپنی بدشگونی سے گوگل اور دیگر ایپس کو بخوبی چکمہ دے سکتے ہیں۔۔۔ !!!
x