"خدا کی بستی" ۔۔۔!

 "خدا کی بستی" ۔۔۔!

جب ہم چھوٹے تھے، زندگی رنگین اور ٹیلی ویژن بالکل بے رنگ ہوا کرتا تھا۔ یہ بے رنگا ابلاغ عامہ میں سیاہ و سفید کا مالک تھا۔ ٹی وی کم، چیلنز بھی گنے چنے، مگر پروگرام بہت معیاری ہوا کرتے تھے۔ اس کے درپردہ جو خاص وجہ کارفرما نظر آتی تھی وہ لکھاریوں کے سامنے سخت مقابلہ، ٹی وی والوں کے پاس وسعت انتخاب اور ناظرین کے پاس محدود انتخاب اور معدودے زرائع کی وجہ سے ٹی وی کے لئے زیادہ وئیورشپ حاصل تھی۔ 

ایسے میں بہت سے اچھے لکھاری اپنے ڈراموں کو چھاپ لیتے اور ان کے ڈراموں کی کتابیں خوب پڑھی بھی جاتی تھیں۔ ٹی وی پر نشر ہونے والے ہی اچھے ڈرامہ نگار نہ تھے بلکہ چھاپے جانے والوں میں بھی بڑی تعداد اچھے ڈراما نویسوں کی ہوتی تھیں۔ اصغر ندیم سید کے شاہکاروں میں ہوائیں، چاند گرہن، نجات، غلام گردش اور پیاس، یونس جاوید کے اندھیرا اجالا، پت جھڑ، رنجش، خواب عذاب، سل، کانٹے، شہرِ مراد، مٹھی بھر آسمان، منشا یاد کے ڈرامے جنون، بندھن، پورے چاند کی رات، آواز، شوکت صدیقی کا لکھا ڈرامہ 'خدا کی بستی' کو  1969 میں پاکستان ٹیلی وژن پر پیش کیا گیا، خدا کی بستی کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ اسے تین مرتبہ ٹیلی وژن پر پیش کیا گیا اور اس کے 42 زبانوں میں تراجم ہوئے۔ اشفاق احمد کے توتا کہانی، منچلے کا سودا، حیرت کدہ، بانو قدسیہ، کمال رضوی، حسینہ معین کے مشہور شاہکاروں میں ،شہزوری، زیر زبر پیش، انکل عرفی، ان کہی، تنہایاں، دھوپ کنارے، دھند، آہٹ، کہر، پڑوسی، آنسو، بندش، آئینہ، محترمہ فاطمہ ثریا بجیا کے شمع، افشاں، عروسہ، انا، انارکلی، زینت، آگہی، بابر ، سسی پنوں، امجد اسلام امجد کا مشہور زمانہ وارث، اطہر شاہ خان کا ہائے جیدی، انور مقصود کا آنگن ٹیڑھا اور دیگر پرمزاح پروگرامز اور خالدروف کا انگار وادی اور لاگ، وہ شاہکار ادبی، علمی اور فکری کاوشیں ہیں جنہیں عہدساز تخلیقی شاہکاروں میں شمار کئے جائیں گے۔ ان ادبی فن پاروں کی تحریر، اداکاری اور ہدایت کاری کے اعتبار سے بھی ایک دنیا معترف ہیں۔ دنیا کے مخلتف زبانوں میں ان ڈراموں کا ترجمہ ہونا بھی علمی و ادبی معیار کی عکاسی کرتا ہے۔ 

کہنے کو تو اس "خدا کی بستی" میں لوگ روز افزوں علمی عروج و رفعت کی جانب گامزن ہیں، تعلیمی انقلاب کے راگ آلاپے جا رہے ہیں۔ یونیورسٹیوں کے قیام اور تعلیمی انتظام و انصرام ہمیشہ خبروں میں رہتے ہیں مگر ٹیلی ویژن پر وہ معیاری ادب اب قائم نہیں۔ ڈرامے تو خوب بنتے اور نشر ہوتے جا رہے ہیں مگر ان کا معیار ادبی سے اب نشریاتی ہوتا جا رہا ہے۔ ان ڈراموں میں مواد بھی سری سری پن کا شکار ہو چکا ہے۔ دوسری طرف رہی سہی دو چند اچھی کہانیوں کو لوگوں کی عجلت پسندی، گوناگوں مصروفیات، دگرگوں سیاسی صورتحال اور تن آسانیوں نے لوگوں کی توجہ سے دور کر رکھی ہیں۔

نیوز چیلنز پر نجی ٹی وی چینلز پر شروع کئے جانے والے ڈمی سیاستدانوں کی ہلڑبازی، نقالی، پھبتیاں اور آوازیں کسنے، مزاح کے نام پر مذاق اڑانے کا جو سلسلہ جاری ہو چلا تھا جو کہ نہ صرد جوں کے توں جاری ہے اور وہ اپنے جلے کٹے پر اپنے ہاتھوں سے نمک ملنے کا کام کر رہا ہے۔ دوچند کالم نگاروں نے پرنٹ کے بعد الیکٹرانک میڈیا پر لفظی پولیسنگ شروع کر رکھی ہے جس نے نوجوان طبقے کے رجحان کو اسی رنگ میں ڈال دیا ہے۔ کھلاڑیوں کی سیاست میں آمد سے سیاسی زبان کمنٹری بن گئی ہے تو دوسری جانب صحافتی ادب اب بازاری بولی بن چکی ہے۔ اختصاریے اور پھبتیوں اور کنایوں کی بہتات نے سوشل میڈیا پر بھی طوفان بدتمیزی برپا کر رکھا ہے۔ تحریروں میں آدمی الفاظ کو اپنے خاندانی لہجوں میں ڈال کر پڑھتے تھے اور ہضم کر لیتے تھے مگر اب ٹی وی پر ان کلام شاعر بذبان شاعر وہ ترش و ننگ زبان استعمال کرتے ہیں کہ خدا کی پناہ۔ اس سے کچھ لوگ آزادی اظہار رائے کا فال نکالتے ہیں مگر جب الجزیرہ اور سحر ٹی وی ایران کو دیکھتے ہیں تو معلوم پڑتا ہے کہ پیروہائی اور راجہ بازار کے پنساریوں، پرچون فروشوں اور پتھارے داروں کا لہجہ اب ہمارے دانشوروں اور مفکرین نے اپنا لیئے ہیں۔ سارے نیوز چیلنز پر نیوز بھی ایک ہی طرح کے، مزاحیہ پروگرام بھی وہی، سپورٹس کے پروگرام اور تو اور دوچار تو فقط لوگو کی وجہ سے مختلف دکھائی دیتے ہیں وگرنہ ایک دوسرے کا مکمل چربہ ہے۔

خیر، جس شعبے سے بھی تعلق رکھتے ہوں، مرد ہو یا عورت، ٹی وی پر بات کا بھرم شور شرابے اور چیخ و پکار سے دکھانا چاہتے ہیں۔ ٹاک شوز میں ایک دوسرے کا منہ نوچنے کے درپے نظر آتے ہیں۔ ٹاک شوز کی وجہ سے عوام میں پیدا ہونے والے نفسیاتی مسائل پر بھی کاش کوئی صحافی کوئی تحقیق و تجزیہ کرنے کی زحمت مرہمت فرماتے تو کیا ہی اچھا ہوتا ۔۔۔۔!

بس خدا کی بستی اب جھنجال پورہ بنتی جا رہی ہے۔ اب ٹی وی رنگین، پروگراموں میں شوخیاں، گفتگو میں رنگینیاں، اداکاری میں جسمانی جلوے اور معاشرے میں ڈرامے چل رہے ہیں۔ ادب کا پرندہ اب یہاں کی محفلوں سے اڑ چکا ہے اور چار سو مردار خور گدھ بیٹھے ہوئے ہیں جو آپ کی ہی منڈیر پر آپ کی موت کے منتظر ہیں تاکہ وہ اپنی پیٹ پوجا کر سکیں۔۔۔!