- Get link
- X
- Other Apps
حاجی مٹھائی کی دکان سے ۔۔۔!!
سکردو کا پرانا بازار کہنے کو تو بہت پرانا ہے مگر فی زمانہ وہاں پرانا کچھ بھی نہیں۔ ایک دور میں باریش سکھ سرداروں کی پگڑیوں کے لمبے لمبے اور رنگ برنگ کے شملے گاہکوں کو دور سے اپنی موجودگی کا پتہ دیتے تھے۔ سکھ بیوپاری دکان کے آگے رونق لگا رکھتے تھے۔ قیاس ہے کہ انہیں بلتی زبان تو آتی نہیں ہوگی تاہم بلتیوں کی رنگین گلابی اردو سے خوب لوٹ پوٹ ہوتے ہوں گے۔ سکھ بھی تو شستہ اردو بولنے کے عادی ہیں نہ شوقین، پنجابی تو وہ ثواب سمجھ کر داغتے ہیں۔ عین ممکن ہے کہ سیر، بھٹی، گھاٹا، وارہ، بیانہ، حساب بے باق اور ہٹی انہی سے بلتی بیوپاریوں کے خون میں جذب ہوگئے ہوں گے۔ محترم حسن حسرت صاحب بیان کرتے ہیں: "پہلی بات جو بزرگوں نے بتائی وہ یہ کہ سکردو میں مقیم سکھ دوکاندار سارے کے سارے بلتی زبان جانتے تھے۔ نیز سکھ دکاندار ماہ محرم اور رمضان میں نہ صرف چیزیں سستی بیچا کرتے تھے بلکہ تولنے کے بعد ترازو میں رعایتا تھوڑی اضافت بھی دیتے تھے۔ دوسری بات یہ کہ دراصل حاجی مٹھائی موجودہ دوکان والے حاجی مٹھائی کے بڑے بھائی کا عرف تھا جنہوں نے پاکستان بننے کے بعد سکردو میں پہلی دفعہ مٹھائی کی دکان کھولی تھی جو ان کی موجودہ دکان کے سامنے واقع تھی۔ مزید برآں برصغیر میں بیکری کی صنعت اٹلی کے مسٹر فلیٹی نے شروع کی تھی۔ ان سے یہ فن شملہ میں مقیم بلتستان کے مرزا سلطان بیگ نے سیکھا اور انہوں نے اتنی مہارت حاصل کی کہ 1880 میں اٹلی کی ایک نمائش میں سلطان بیگ نے ایوارڈ حاصل کیا۔ روایت کے مطابق سلطان بیگ نے شملہ اور بمبئی میں کم و بیش ایک ہزار بلتیوں کو بیکری کے فن سے آشنا کردیا تھا۔ علی ہذا القیاس حاجی مٹھائی بھی انہی میں سے ایک تھا جنہوں نے بیکری اور مٹھائی کی صنعت میں مہارت حاصل کرلی تھی اور سکردو میں سب سے پہلے یہ صنعت متعارف کرنے کا سہرا انہی کے سر ہے"۔
خیر ۔۔۔! جب یہاں کے جانبازوں نے جب سکھوں، ڈوگروں اور بدھوں کو ڈنڈوں کے زور سے مار بھگایا تو یہی پرانا بازار سنسان رہ گیا ہوگا۔ مال وال کا کیا بنا خدا شاہد، مگر پرانے بازار میں سودا سلف کے بھاوتاو مقامی مسلمان کرنے لگے۔ گئے وقتوں میں یہاں کے دوکاندار فرقت میں اون کاتتے اور مویشیوں کے بال دھنگتے نظر آتے تھے۔ ان دنوں دکانوں پر سیاسی و مذہبی خوب چلتی تھی اور تو اور ادھار لینے میں بھی کشمیر کی آزادی کی شرط لازم نہیں تھی۔ محبت کے تانے بانے موٹے تھے یا ادھار کی قینچی اتنی کند تھی کہ محبتیں ادھاروں سمیت قائم رہتی تھیں۔ دھیرے دھیرے نئے بازار میں نئے بیوپاری آتے گئے اور پرانے بازار میں نئے سامان پہنچنے لگے۔ کوات، غضوربہ، پھیالو، کھاڑی، چورا، کھہ کرومبو، کنگڑی، خلینگبو، غضوا، لونگتو، باجو، کری، طبریل، سموار، چھنمہ، زدونگبو، بڑقمہ، تھقپہ، منگور، زانگس، سکیا، خشول، بڑاشنگ، شنگ لیپ، ھلم، پیتاول، کانگشنگ، کھاژے اور ہرکونگبو بمبہ تک یکایک صفحہ ہستی سے مٹ گئے۔ ان کی جگہ سیالکوٹیے اور جرانوالہ کے کاریگروں کے ہاتھ سے بنے پیتل، تانبے اور لوہے کے اوزار و سازوسامان آنے لگے۔ لوگ اب گھروں میں پیاز چھلینا تک گوارہ نہیں کرتے اور چائنہ کی مہربانی سے چھلے ہوئے پیاز بازار سے ارزاں لے لیتے ہیں۔ تکے، کوفتے، شامی کباب، قتلے، قیمے، نرگسی کوفتے سے لے کر تھیلوں میں تیار سالن تک بازار میں موجود ہوئے۔
پرانا بازار کی خاص بات حاجی مٹھائی کی دکان سے ہے۔ گویا حاجی مٹھائی کی دکان اسی بازار میں ہے اور سارا بازار ان کی دکان میں۔ پرانا بازار میں ان سے پرانی دکانیں دکانوں کی حد تک ہی ہیں مگر حاجی مٹھائی کی دکان اور پرانا بازار کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔
حاجی صاحب کا نام مٹھائی کیوں پڑ گیا اس کا درست اندازہ لگانا مشکل ہے مگر حلوائی، نان بائی، درزی اور موچی کی طرح یہ نام دیکھ کر دھوکہ مت کھائیے یہ مٹھائی کی دکان ہرگز نہیں۔ اب کوئی پوچھے یہ کس شے کی دکان ہے تو اتنا کہے کہ دکان نہیں عمرو عیار کی زنبیل ہے، یا الہ دین کے جن کا خزانہ، یا جادو کی چھڑی لئے ہر شے حاضر کرنے والی پری زاد کا دولت کدہ۔ یہاں کیا کچھ دستیاب نہیں ہے؟۔ ہر وہ چیز جو دوسری دکان پر نہیں مل سکتی یہاں موجود ہیں۔ اس بارے میں یہاں کے زعما کسر نفسی سے کام لیتے ہوئے کہتے ہیں کہ حاجی مٹھائی کے پاس مچھر کے پروں کے جوڑے، شیطان کی آنتیں اور پدی کا شوربہ تک میسر ہیں۔
ساگودانہ، اجوائن، پھپھلدراز، معجون ماہی، گاو زبان، جلوتری، شمدون، زعفران اس قبیل کی تمام تر نسلیں، پھر مشک عنبر، خشخاش، چاندی ورقہ، سلاجیت، گلہری کے دانت، مارخور کی کھال، گھوڑے کی دم، یاک کے سینگ اور اس طرح کی اشیاء، پھر عاملوں کے کام کی چیزیں کالا مرغ، الو کے پر، بلی کی مونچھیں، لومڑی کی دم، انار، انجیر اور گلاب کی ڈنڈیوں کی قلمیں، اناردانہ، ساگودانہ، کینو کے خشک چھلکے، زہر مہرہ، زہر حلاہل، سارگ و بگلے کی چربی کا تیل اور حتی کہ تیار شدہ تعویزیں بھی ہیں جن میں دعائے جوشن کبیر، ناد علی، سورہ فتح، سورہ الکرسی وغیرہ۔ مقامی نسل کی تمام تر جڑی بوٹیاں حسب ضرورت حالت و کیفیت میں مل سکتی ہیں۔ بدنام زمانہ سلاجیت کی تمام اقسام، شہتوت، کالے، سفید، سرخ اور خشک و تریاق ہر صورت میں دستیاب ہیں۔ شہد بھی کئی قسم کے ملتے ہیں۔ سوئیوں میں سلائی مشین کی سوئی، ہاتھ سے سینے والی سوئی، گلکاری کی سوئی، فریم پر پھول بنانے والی سوئی، موٹے تھیلے سینے والا سوا اور چاول آٹا چیک کرنے والا سوا تک موجود ہیں۔ ٹیچ بٹن، زیپ، زیپ معہ پٹریاں، چھلے، لاکٹ، نگینے، قلعی، زمرد، فیروزہ، عقیق، یاقوت، در نجف، مرجان، لعل، موتی، شب چراغ، درعدن، چیتے کی آنکھ، ابرق، کالا ابرق اور لداخی و ایرانی پتھروں کی تمام نسلیں بھی ہیں۔ نائلون، کپاس، بال، ریشم اور پلاسٹک کی رسیاں، چھری، خنجر، تلوار، چھرا اور کٹاری تک، پلمبر، نائی، موچی، درزی، بندوق ساز، کھڑی ساز، رنگ ساز اور موسیقاروں تک کے ساز وسامان مل سکتے ہیں۔ دالوں کی تمام قسمیں، مقامی و غیر مقامی دالیں، دانے دنکے اور ہر بوٹی کی اقسام۔ گھوڑے کے زین، رکاب، نعل، لگام، زرہ اور چابک تک ملتے ہیں۔ دیسی انڈے، دیسی مکھن، بالاکوٹی مکھن، مادہ یاک کا مکھن، خوبانی، اخروٹ، بادام، کدو، سرسوں، سورج مکھی اور مچھلی کی چربی کا تیل بھی مل سکتے ہیں۔
الغرض آپ نے کسی چیز کا نام سنا ہو اور وہ مل نہیں رہا تو اسی دکان سے ملنے کی امید رکھیں، اگر خدانخواستہ موجود نہ ہوا تو چند دنوں میں پیدا کرنے کی سہولت بھی رعایتا دے ڈالتے ہیں۔ حاجی مٹھائی سکردو حتی کہ بلتستان کی تاریخ میں ایک روشن باب ہے۔ ان جیسے محنت کش اپنے پیشے سے لگاو رکھنے کے ساتھ ساتھ گاہکوں کی خدمت کو اپنا نفع سمجھتے ہیں۔ اپنی دکان سے کسی کو نامراد لوٹتے دیکھ کر انہیں بالکل اچھا نہیں لگتا۔ سکردو آنا ہوا اس کا ایک چکر ضرور لگانا۔ یہ وہ دکان ہے جس کو بلتستان کے طول و عرض کے لوگ جانتے ہیں اور ان کا پتہ سب کو پتہ ہے۔
- Get link
- X
- Other Apps