میں "یادگار" ہوں ۔۔۔!!!

 میں "یادگار" ہوں ۔۔۔!!!

سکردو یادگار چوک کا مینار، اس زمین پر علی شیر خان انچن کے عوامی شاہکاروں کے بعد کسی فرد کی وہ اکلوتی کاوش تھی جسے شہر کی رونق بڑھانے کے لئے تعمیر میں لایا گیا تھا۔ ہے تو یہ مینار یادگار شہداء، وہ بھی سنہ انیس سو اڑتالیس کی جنگ آزادی بلتستان کے فوج ظفر موج، رضاکاران سربکف اور غازیان باوفا کی عظمت فلک رسیدہ اور قربانیوں کا مظہر، مگر اسے آج کل پرانا یادگار کہا جاتا ہے کیونکہ نیا یادگار بلاوجہ و بلاضرورت بعینہ اسی نقشے کلیے پر میونسپل لائبریری کے لاون میں بنوایا ہے۔ 

 1948 کی جنگ آزادی کے سب سے نمایاں شہید کواردو کے ماسٹر غلام رضا نے اسی پرانے یادگار کے قرب وجوار میں سینے میں گولی کھاکر جام شہادت نوش کیا تھا۔ اس یادگار کو تعمیر کرنے کے لئے پہلا قدم جس شخصیت نے اٹھایا تھا ، وہ قمراہ کے سلطان مہدی تھے جو شملہ میں قائد اعظم نیشنل گارڈ کے کمانڈر تھے اور تحریک پاکستان کے دوران قائد اعظم کے ساتھ پورے ہندوستان کا دورہ کرچکے تھے ۔سلطان مہدی مرحوم نے بنات گل آفریدی کو اس  یادگار شہدا کوبنانے پر آمادہ کیا اور مبلغ 500 روپے چندہ بھی دئے جو آج کے کم و بیش پچاس ہزارکے برابر ہیں۔ 

یادگار شہداء اپنے عہد تعمیر سے تا عصر حاضر سکردو کی عوام کا وہ چشم دید گواہ ہے جس نے ہر گزرتے وقت کے ساتھ ان کے رویوں میں آنے یا نہ آنے والا بدلاو، سوچ و فکر کے مد وجذر اور سماجی و سیاسی زیر وبم کو بڑے قریب سے دیکھا ہے۔ کئی میٹر بلند اس مینار کے اوپر لوہے کا چیل گامزن ہے۔ خدا معلوم آخر اتنے سالوں سے پرتولے اڑنے کو تیار اس پرندہ سے اڑان کی ہمت کیوں نہیں بن پا رہی اور مسلسل سر کو جھکائے کیوں شرمسار بیٹھا ہے۔ 

ایک وقت تھا جب گاڑیوں سے خالی چوک چوراہوں پر لوگوں کا اژدھام رہتا تھا۔ آتے جاتے لوگ اس یادگار کے نزدیک کھڑے ہوکر شہداء کے نام فاتحہ پڑھ کر گزرنا عین ثواب سمجھتے تھے۔ یہاں ٹریفک کا ایک سارجنٹ کالے چشمے لگائے دن بھر گپیں ہانکتا رہتا تھا۔ دور دراز سے آئے لوگ جب اس یادگار کے پاس ہجوم لگاتے تو ساتھ والی بیکری کے آنگن میں بینج پر بیٹھے پاوں پر پاوں چڑھائے مفت کی بوتل اڑاتے سرکاری سیٹی سے شرشر کی تیز آواز لگاتے کہ حیرت سے مینار کو دیکھتے لوگ نو دو گیارہ ہو جاتے۔ 

یاد گار کے آجوباجو میں ریڑھی بان موجود ہوتے تھے جن پر ہرمال دورپیہ کی صدائیں دن بھر گونجتی رہتی تھی۔ سوئی سے آئنہ تک لوگ دو روپیہ میں اٹھا کر چل دیتے تھے۔ پتھارے داروں کی رونق زنانہ کپڑوں کے کھلے تھانوں، چنے مونگ پھلی اور دالوں کے علاوہ رنگ برنگے پراندوں سے ہوا کرتی تھی۔ ان دنوں میں عورتوں کی زلف رراز کی ناگن ناگہاں آموز کی پکڑ انہی پراندوں سے قائم رہتی تھی وگرنہ جہاں یہ زلفیں کھلیں وہاں شاعروں کی شامت آ جاتی تھیں۔

دونوں ہاتھوں سے محروم اور ایک آنکھ سے نابینا ایک فقیر منش بابا، چاکلیٹی رنگت والے چہرے پر اسپغول کے چھلکے کی مانند بے ترتیبی سے اگے بال اور پسینے سے تربتر ہوئے ہر وقت وزن اور بحر سے بے بہرہ اردو بلتی مکس اشعار سناتے پھرتے تھے۔ ان کا بدنام زمانہ شعر یہ تھا

حسین آباد نا یاخی روٹ پو لا پھل تونگ لے بھائی    دی رشوت زے پولیس کن ان حرامی

بس کچھ اسی بحر میں ان سے بحر طویل ہوتے تھے۔ جو مندر کی چڑھائی سے یادگار کے دامن تک تواتر سے بہتے رہتے تھے۔ اس کو سننے کے لئے لوگ ان کے بازوں سے عاری شانوں کے شانہ بشانہ چلا کرتے تھے۔ 

یاد گار چوک کا ایک اور نمونہ اکبر چنداوی تھا۔ خدا عمر دراز کرے آج بھی بقید حیات ہے۔ مگر جس طمتراق، شستہ و برجستہ اور شعلہ بیانی سے وہ کھرمنگ والوں کو گالیاں دیتے تھے کھرمنگی تو کھرمنگی روندو سے حراموش تک کے لوگ کانوں میں انگلیاں ٹھونس دیتے تھے۔ آواز میں بھلا کی بلندی تھی اور شوخ ایسی کہ کالج روڈ تک اس کی گالیاں صحت سلامت سنائی دیتی تھی۔ گندم کی سپلائی اور خوردبرد ان کا پسندیدہ موضوع خطاب ہوا کرتا تھا۔ ہر جملے پر ٹھینگا دکھا کر سامعین سے اپنی بات کی تائید لینا یادگار کی تاریخ میں آج تک کسی بھی تجربہ کار مقرر سے بنتے نہیں دیکھا۔ آج کل وہ بڑے سنجیدہ ہوگئے ہیں وگرنہ سننے کو غیر سنجیدہ عوام آج بھی بے تاب دکھتی ہیں۔

خدا مغفرت کرے ایک اور فقیر میاں تھے جو کم وبیش درجن بھر کپڑے ایک ساتھ پہن کر پھرتے تھے۔ غالبا 93 کی شدید ترین سردی میں وہ ٹھنڈے پڑ گئے۔ ایک اور حاجی صاحب بھی تھے وہ جناح کیپ اور سوٹ بوٹ میں بھلے انسان معلوم ہوتے تھے قرآنی آیات کی روشنی میں بےجا اور بے محل گفتگو میں یدطولا رکھتے تھے اسی لئے ان کو سننے والے کم اور کوسنے والے زیادہ ملتے تھے۔ یادگار کی یہ یادگار روایت رہی ہے کہ یہاں مقرر جتنا چونچلا ہو داد وہی زیادہ سمیٹتے ہیں۔ گویا سنجیدہ باتیں سننے لوگ یہاں تھوڑی آتے ہیں۔

یادگار پر انہی لوگوں کا سکہ چلتا تھا۔ 

آج کل دل جس کا دل کرتا ہے یادگار پر روڈ کو بند کر دیتا ہے آتے جاتے لوگوں کا ہجوم بن جاتا ہے اور جلسے والے اسی زعم میں کہ سننے کے لئے بہت لوگ آئے ہیں جوش خطابت میں صبح سے شام کرتے ہیں۔ طلبہ تنظیموں، سیاسی پارٹیوں، قوم پرستوں اور سول سوسائٹی اور انجمن تاجران سے بہتر کون اس تجربے کو بیان کر سکتا ہے کہ جتنے لوگ ان کے جلسوں میں آتے ہیں ان کا دسواں حصہ بھی دل سے ان کے ساتھ ہوں تو ان کا کوئی مسئلہ حل طلب بھی نہ رہے۔ سچ تو یہ ہے کہ یادگار کو گھیر کر تقاریب سجانے میں جو کامیابی نظر آتی ہے اسے مقصد کے حصول سے جوڑنے میں دانشمندی خال خال ہی ہو سکتی ہے۔

مسئلے جدھر کے بھی ہوں احتجاج اور جلسے یادگار کی قسمت میں ہی لکھے ہوتے ہیں۔ شاید اسی مسئلے کے حل کے لئے نیا یادگار بنوایا تھا مگر مظاہرین بھی کچھ کم شاتر کہاں ہیں انہیں وہاں مفت کے مظاہرین کہاں ہاتھ آنے ہیں، اس لئے نئے یادگار پر کرایے کی تقریبات بھی پھیکی پھیکی رہ جاتی ہیں۔ 

یادگار چوک نے یاد گار لمحات بھی دیکھے ہیں، سیاست میں اصولوں کے امین، طلبہ تنظیموں کے دلیر و بے لاگ سربراہان اور سماجی رہنماوں کی فکر انگیز تقاریر سے لے کر عہد حاضر کی نئی سیاسی چال چلن تک اس کی چشم بینا نے دیکھی ہیں۔ بجلی کی بندش، آٹے کے بحران، سرکاری و غیر سرکاری تقریبات کے لئے احتجاج اور جلسے کی صحیح جگہ یہی یادگار چوک رہ گیا ہے۔  

مینار یادگار شہدا شاہد ہے کہ اتنے طویل عرصے میں بہت کچھ بدل گیا، پرانی کھٹارہ گاڑیاں بند ہوگئیں، نئی نویلی، چمچماتی گاڑیاں آئیں، شیشے والی دکانیں بن گئیں، بڑی مارکیٹیں اور شاندار ہوٹلز کھل گئے، اشیاء خوردو نوش کی ارزانی ہوگئی اور بندے اتنے بڑھ گئے کہ تل دھرنے کو جگہ نہیں اور پگڈنڈیوں پر کھوے سے کھوا چھلتا ہے۔ یونیورسٹیاں اور کالجز بن گئے مگر نہ احتجاج کے مقاصد بدلے، نہ اطوار بدلے اور نہ مسائل کم ہوئے۔ وہی مسئلے، وہی طریقے، وہی رواج، جو کل بھی تھے وہ آج بھی ہیں۔ توڑ پھوڑ، جلاو گراو اور گالم گلوچ نے احتجاج میں زیادہ شدت پکڑی ہے جو پہلے زمانے کے جلسے جلوسوں میں نظر آتے تھے۔ 

اس مینار دیو قامت نے بلتستان کے مہذب، ثقافت آشنا اور انسان دوست انسانوں کو بدلتے دیکھا ہے۔ اس نے غربت سے امارت کی طرف بڑھتے دیکھا ہے، لاعلمی سے تعلیم کی طرف بڑھتے دیکھا ہے، بچوں کو بڑے ہوتے اور بڑوں کو رہنما بنتے دیکھا ہے، ویرانوں کو محلات اور محلات کو شہروں میں بدلتے دیکھا ہے۔ اس نے یہ بھی دیکھا ہے کہ مقامی صنعتوں کے کل پرزے کیسے پرزے پرزے ہو کر پٹھانوں کی دکانوں میں بک گئے۔ لوگوں کے لباس بدل گئے، رکھ رکھاو اور علیگ سلیگ کے اطوار بدل گئے۔ یہ یادگار شاہد ہے کہ اس بدلاو نے سماج کو کیا دیا، یہ جانتا ہے کہ درآمدہ ثقافت کی دراندازی نے من حیث القوم ہماری تشخص کو کیا دیا۔ امارت و عشرت نے سماج کو کن بیماریوں میں مبتلا کردیا۔ 

یہ یادگار دیکھ رہا ہے ان کا مداوا کون کررہا ہے اور کون آج بھی ان بھلے مانس اور سادہ لوح عوام کو الٹی پٹیاں پڑھوا کر دھونس اور مکر و فریب کی چالوں میں پھنسا کر منزل مراد سے دور کر رہا ہے۔ یہ دیکھ رہا ہے کہ تعلیم اور ترقی کے دعویدار عام لوگوں کی زندگیوں میں بہتری کے لئے کتنے سنجیدہ ہیں۔ 

یادگار کی بے ضرر تقریریں اور اس مقام کے بے لاگ کردار وہی فقیر منش لوگ ہیں جنہیں فکر سماج نے ذہنی افتراق میں مبتلا کردیا۔ جب وہ تعلیم و ترقی کے دعویداروں پر ہنسنے کے قابل نہیں رہے تو ان کے کرداروں پر زمانہ قہقہے لگاتے ہیں۔ اسی لئے گردن خمیدہ پرندہ یادگار سے سرگوشی کرتے کہہ رہا ہے کہ!

قہقہے لب پہ جو آتے ہیں تمہیں کیامعلوم       کتنے زخموں کے لہو پی کے جواں ہوتے ہیں۔۔!