- Get link
- X
- Other Apps
سچے جھوٹ۔۔۔!!!
"بندہ جھوٹا ہو تو واقعہ جھوٹا ہوتا ہے اور جب بندہ سچا ہو اور جھوٹا لگ رہا ہو، تو زبان جھوٹی ہوتی ہے"۔
اگر آپ اس ایک جملے، ایک نکتے اور اصول کو سمجھ چکے ہیں تو مزید پڑھیں، وگرنہ اسی ایک جملے سے سوا پڑھنے کی ہرگز ہرگز اجازت نہیں۔ ہر انسان کو اظہار رائے کا فن جاننے کے لئے فقط ایک ماں کافی ہوتی ہے۔ اگر بدقسمتی سے اس کی دسترس نہ ہو تو پھر وہ کسی بھی دوسری شے کی رفاقت سے خود ہی سیکھ لیتا ہے جو قدرے بہیمانہ، کھٹن اور وقت طلب عمل ہے۔ مگر اگر اسے سرے سے ہی کسی انسان کی رفاقت حاصل نہ ہو تو کم سے کم وہ کوئی بولی نہیں سیکھ پاتا۔ یعنی اس کی زبان اس زرخیز مٹی کی مانند پڑی رہتی ہے جس سے سینچ کر گلستان کرنے والا کوئی نہ ہو۔
دوسرا نکتہ یہ کہ کوئی ایسا شخص ہی کسی کو بولنا سکھا سکتا ہے جو خود کچھ نہ کچھ بولنا جانتا ہو۔ اب وہ شخص صرف وہی بول سکتا ہے جو اس نے سوچا ہوا ہو، اور وہ صرف اسی طرح ہی سوچ سکتا ہے جس طرح اس نے دیکھا، سنا یا محسوس کیا ہو۔ ہر وہ شے جسے اس نے دیکھا، سنا یا محسوس نہیں کیا وہ اسے بول نہیں سکتا۔
ایک نابینا فرد کسی بھی دوسرے کی آواز کو اسی طرح پہچان بناتا ہے جیسے ایک بینا شخص کسی کے چہرے کو۔ اب جب ایک بینا فرد کو خواب آتا ہے تو اس میں چہرے مہرے اور حلیے کلیے کے ساتھ لوگ کچھ نہ کچھ کرتے نظر آتے ہیں۔ جبکہ پیدائشی طور پر مکمل نابینا شخص کو خواب میں اسی طرح کی بے شکلوں آوازیں آتی ہیں، اور ساتھ ساتھ اس کے حواس اسی طرح ردعمل دیتے ہیں جیسے اسے سچ مچ میں کسی کا پاس ہونا محسوس بھی ہوتا ہے۔ گویا آنکھوں والے شکلوں کی، کانوں والے آوازوں کی، حس والے محسوس کی اور اور آنکھ، کان اور حواس والے شکل، آواز اور احساسات کی دنیا بساتی ہیں۔
کسی کی بھی دنیا، شکل، آواز یا حواس سے مبری نہیں ہو سکتی۔ گویا ہر کسی کے پاس وہی کچھ ہے جو اس نے دیکھا یا اسے دکھلایا، اس نے سنا یا اس کو سنوایا، اس نے محسوس کیا یا اس کو محسوس کرایا۔
جب ایسے کسی کو نوبت آتی ہے کہ اس نے کیا دیکھا یا اس کو کیا دکھلایا، اس نے کیا سنا یا اس کو کیا سنوایا یا پھر اس نے کیا محسوس کیا یا اس کو کیا محسوس کرایا، تب اس تجربے کے بیان کے لئے وہ لفظ کا سہارا لیتا ہے۔ جب اس کے پاس الفاظ کی کال ہوتی ہے تو تب وہ اسے منظم، مربوط یا مروجہ لفظ میں ادا نہیں کر سکتا اس لئے وہ زرا سا ترکیب بدل کر بیانیہ انداز اپناتا ہے۔ جو عموما بچوں کو زیادہ درپیش ہوتا ہے بڑے کہیں نہ کہیں سے دریافت بھی کر لیتے ہیں یا پھر بہت ہی متفرق و اچھوتا خیال بیان کرنا ہو، جن کی اصطلاح مفقود، محدود یا پھر متروک ہو تو پھر وہ صنائع و بدائع سے کام لیتے ہوئے خود ہی اس کے لئے مخصوص اصطلاح جوڑ لیتا ہے۔
ذبان ہر انسان کی ضرورت نہیں، بلکہ وہ جو کان رکھتے ہیں ان کے لئے یہ ضروری ہے۔ جن کے کان نہیں ان کی ہاتھ بولتے ہیں آنکھیں سن لیتی ہیں۔ سننے والے کے لئے لفظ، لہجہ اور تنظیم، اور سن نہ سکنے والے کے لئے تاثرات، حرکت اور ادا محاسن سخن کے کام کرتی ہیں۔
دوران گفتگو ساری باتوں کو سننا ضروری ہے مگر ہر لفظ کو سمجھنا ضروری نہیں، صرف مطلب کا سمجھنا ضروری ہوتا ہے۔ اسی لئے اشارے، کنایے، تلمیحات، تشبیہات، استعارے اور ضرب المثل لفظ نہیں ہوتی بلکہ مفہوم ہوا کرتی ہیں۔
ذباندانی سیکھنے والا شخص یہ جانتا ہے کہ اسے کسی بھی زبان کا ہر لفظ سیکھنا ضروری ہے مگر یہ زبان جاننے کے لئے ہے اچھی گفتگو کے لیے نہیں۔ اچھی گفتگو کے لئے مفہوم کی ادائیگی کی حد تک کے لفظ کافی ہوتے ہیں۔ ویسے بھی زبان ایک زندہ حقیقت ہے اور اہل زبان خود بھی بیک وقت اپنی زبان کے تمام تر الفاظ کو نہیں جانتا۔ آدمی جب زبان سیکھ رہا ہوتا ہے تب وہ ایک بات کو بہت سے الفاظ میں بیان کر رہا ہوتا ہے مگر جب وہ بولنا سیکھ جاتا ہے تب اس کو کم الفاظ میں زیادہ بات کرنی آجاتی ہے۔
لفظ حقیقت کو جتنا زیادہ بہتر طریقے سے بیان کرے اتنا وہ لفظ معتبر، صحیح اور صحتمند شمار کیا جائے گا اسی طرح جس بھی زبان کے اندر دنیا کی حقیقتوں کو دکھانے یا محسوس کرانے کی جتنی عمیق صلاحیت موجود ہوگی اس زبان کو اتنی بہترین زبان سمجھی جائے گی۔ واضح رہے، یہاں بات استعارے، تلمیحات اور تشبیہات و دیگر محاسن شعری سے ہٹ کر ہو رہی ہے۔ مگر حقیقت لفظ، اصطلاح و مفہوم ہی کیا خود بیان سے بھی بڑی شے ہے اس لئے اس کو لفظ کے پیرائے میں سمونا ممکن نہیں۔ مزید برآں حقیقت متحرک شے ہے اور زبان و بیان جامد۔ اس لئے بھی زبان حقیقت کو مکمل بیان کرنے سے گریزاں ہوتی ہے۔ اس لئے پڑھنا کافی نہیں، سننا کافی نہیں تدبر، تعلم اور تفکر کی ضرورت رہتی ہے۔
مقداری اعتبار سے چند جھوٹے الفاظ یہ ہیں، بہت، بڑا، لمبا، اونچا، زیادہ، گہرا، وسیع، کھلا، بھاری وغیرہ جو کبھی بھی اپنی کوئی حدود و قیود نہیں رکھتے یہ یہاں کچھ ہے تو وہاں کچھ۔ اس کے بعد معیاری حالت کے اعتبار سے جھوٹے لفظ اچھا، حسین، نیک، قابل، صحت مند ایماندار وغیرہ اور چند اصطلاحات بھی جو نرے جھوٹ ہی ہیں مثلا میں تمہیں دل دے دیا، وہ ذہن میں بیٹھ گیا، دل میں اتر گیا، میری آنکھوں کو بھلی لگی، جی کرتا ہے، کان ترس گئے، ہاتھ پاوں پھول گئے، رونگٹے کھڑے ہوگئے، پانی پانی ہوگیا، اور تو اور مرنے والا خود چیخ کر پکار اٹھتا ہے "ہائے میں مر گیا، ظالمہ میں مر گیا" ۔۔۔۔!!!
(از راہ تفنن)
- Get link
- X
- Other Apps