سدپارہ کا مہہ پارہ" ۔۔۔!!

 "سدپارہ کا مہہ پارہ" ۔۔۔!!

فلک بوس چوٹی کے-ٹو کی بلندیوں پر آشکارا سدپارہ کا مہہ پارہ گزشتہ کئی دنوں سے بادلوں کے اوٹ میں ہیں۔ وہ سادہ دل و نرم خو، وہ جفاکش و سخت جاں، جو دنیا کی خطرناک ترین مہم پر ہنستے مسکراتے گئے تھے۔ کے- ٹو کا غرور تو وہ پہلے ہی خاک میں ملاچکا تھا مگر اب کے بار ان کا سابقہ کے-ٹو کی بلندی کے علاوہ لہو جماتی سردی، تیز و تند برفانی طوفان اور اکسیجن کی کمیابی سے تھا۔ ایورسٹ، ننگا پربت اور چھوغو ری کا گھمنڈ توڑنے والے، علی سدپارہ سے بہتر اس مہم کی درگھٹناوں کو کون بہتر سمجھ سکتا تھا۔ اسے معلوم تھا کہ یہ وہ کار ناممکن ہے کہ دنیا کے قابل سے قابل، ماہر سے ماہر اور سہولیات سے بھرپور مہم جو بھی سرانجام نہ دے سکا۔ 

علی بھائی کہا کرتا تھا کہ "آدمی یا تو مہم جو ہے یا پھر نہیں ہے"۔ گویا مہم جو کے پاس کوئی دوسرا کوئی آپشن ہی نہیں ہوتا۔ جان پر کھیلنے کا مرحلہ بھی اسے کوئی پہلی بار پیش نہیں آیا، ایورسٹ، ننگا پربت اور دیگر فلک شگاف چوٹیوں کے راستے میں انہوں نے بارہا موت کو قریب سے دیکھ چکا تھا۔ ہر بار موت اس کی کتاب میں مہارت، دلیری اور عزم مصمم کے ابواب میں بین السطور پنہاں رہ جاتی تھی۔ علی کی پیشہ ورانہ مہارتوں پر جتنی اس کی خاموشی بول اٹھتی تھی اس سے بڑھ کر اس کے ہم عصر پیشہ ور، اعلی تربیت یافتہ اور تجربہ کار کوہ پیما بھی نہ صرف معترف تھے بلکہ رشک کرتے تھے۔ مگر وہ اپنا آئیڈیل اپنی ہی قوم کے عظیم ہیرو حسن سدپارہ کو سمجھتے تھے۔ گو کہ اپنے بیٹے ساجد کو اس کار پرخطر پیشے کی طرف لا کر اس نے یہ ثابت کیا کہ مہم جوئی سے اس کا رشتہ عشق کا ہے۔ مہم جوئی کے دیگر تمام خطرات اور اپنے سامنے کئی مقامی و غیر مقامی کوہ پیماوں کی زندگیوں کے چراغ گل ہونے کے واقعات کے علاوہ یہ بھی ان کے دل پر نقش تھا کہ اس کے گاوں کا ایک اور نامور کوہ پیما بھی اس سے قبل لاپتہ ہوچکا تھا۔ مگر اس کی ہمت دیکھیں کہ اپنے بیٹے کو نہ صرف اس پیشے کے انتخاب میں ہمت باندھ رہے ہیں بلکہ اس کی تربیت بھی کر رہے ہیں، اور تو اور دنیا کی سب سے خطرناک ترین مہم پر اپنے ساتھ لے کر جا رہے ہیں۔ جبکہ لوگ عموما ایک ہی خاندان کے افراد کے ایک ہی گاڑی میں سفر سے بھی احتراز کرتے ہیں۔ ساجد کہتے ہیں کہ جب پاولو، جون اور علی کے ساتھ وہ چڑھ رہے تھے تب یورپی کوہ پیما اور نیپالی شرپا بڑی تعداد میں واپس لوٹ رہے تھے۔ خود ساجد بھی موسم کی شدت کی تاب نہ لاتے ہوئے 8 ہزار میٹر کی بلندی سے لوٹتے ہیں تب بھی علی سدپارہ کا ارادہ کمزور نہیں پڑتا، دوسری طرف ساجد بھی شفقت پدری کے آگے مغلوب نہیں ہوتا بلکہ اس وقت وہ علی سدپارہ کو ایک والد کے علاوہ ایک ماہر کوہ پیما، جواں مرد مہم جو اور بااعتماد ساتھی کے طور پر بھی دیکھ رہا تھا۔ اسی لئے انہیں قوی یقین تھا کہ جب مہم کے ٹیکنیکل پارٹ کو انہوں نے پار کر لیا تو سر بھی کر لیا ہوگا۔ دوسری جانب وہ اس مہم سے مربوط حقیقتوں سے بھی اس قدر واقف ہے کہ اس بلندی پر موسم کی شدت سے ماوری ہو کر بھی "اتنی دیر" لگانا زندگی کی امید کو مدھم کر دیتا ہے۔ 

ایسے مہمات پر عام سا کوئی شخص اپنے باپ کو کھو دیتا تو ان کی آنکھیں خطرات کو نہیں دیکھ پاتی، اس کا ذہن بکھر جاتا ہے مگر سلام ہے ساجد کے حوصلے کو کہ اس نے نہ صرف اس پرخطر رات کی سختیاں تنہا جھیلتا رہا بلکہ اپنے والد کے ساتھ درپیش معاملات میں اطمینان سے منطقی نتائج اور حقیقتوں کا تجزیہ بھی کرتا رہا۔ اس نے گریہ و زاری کرنے پر امید کو ترجیح دیتا رہا اور حقیقتوں کی تلخیوں کو خلق سے اتار کر سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم کی قیادت بھی کرتا رہا۔ وہ جو سوال کر رہے ہیں کہ آخر جان جوکھوں میں ڈال کر ایسی مہمات پر جانے سے کیا ملتا ہے، ان کے لئے جواب صرف "ساجد" ہے۔ ساجد کا رویہ، ساجد کا اعتماد، ساجد کا جذبہ اور کچھ بھی نہیں۔ موت کا تو کیا ہے، اسی دن پاکستان میں درجن سے زائد لوگوں کو کورنا نگل گیا۔ مگر شہر میں جس کی زندگی اور موت کے باہم ایک امید کو لے کر دست بہ دعا ہے وہ علی سدپارہ کی ذات ہے۔ وہ جس کے لئے دنیا کے کونے کونے سے خیرسگالی اور عافیت کی دعائیں دے رہے ہیں وہ فقط ان کی پیشہ وری، جفاکشی، بلند ہمت اور عظمت کی نشانی ہے۔ مگر ساجد نے خود کو جس طرح اس تاریخی باب کے ساتھ جوڑ لیا وہ بھی زمانہ بھول نہیں پائے گا۔ 

تمام تر جان کنیں حالات و حقائق کے باوجود بھی اگر بازیابی کی کوئی امید باقی ہے تو وہ بھی فقط علی سدپارہ کا دیا ہوا اعتماد ہے۔ علی سدپارہ سے جڑی سوچ بھی تب تک مات نہیں کھا سکتی جب تک کوئی اور ٹھوس حقیقت اس پر غالب نہ آجائے۔ 

قوم کو سدپارے اور ساجد سے ابھی بڑی امیدیں ہیں مگر یہ واقعہ پوری قوم بالخصوص رہنماوں کو ایک بار جھنجھوڑ رہا ہے کہ اب کے بعد مہم جووں کو داد و تحسین اور دعاوں کے رحم و کرم پر چھوڑنے اور اس پیشے کی زرخیزی کو مدنظر رکھ کر مردانگی سے سوا بھی کچھ دینے کا سوچیں۔ سد پارہ اور ہوشے کا کوہ نوردی پر بڑے احسانات ہیں۔ اس کی ترویج و بہتری کے لئے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ادارہ جاتی کاوشیں عمل میں لائی جائیں اور اسے باقاعدہ ایک سپورٹس کی حیثیت دی جائے۔ ہائی پورٹرز کو ماونٹینیئرنگ کی تربیتیں فراہم کریں، ماونٹینئیرز کو سپانسرشپس فراہم کریں اور ان کو کارکردگی کی بنیاد پر سرکاری سطح پر روزگار فراہم کریں اور ان کی لائف انشورنس کے لئے اقدامات کئے جائیں۔ نام روشن کرنے کے لئے صرف نام کافی نہیں بلکہ روشنیوں کا بھی بندوبست ہونا بہت ضروری ہوتا ہے۔

خدا ہمارے ہیئروز کو سلامت رکھیں۔۔۔!!!