سماج کل اور آج ۔۔۔!!!

 سماج کل اور آج ۔۔۔!!!

گزشتہ چند برسوں پرانی بات ہے کہ کراچی کے پاوچ ایئریے میں ایک انتہائی شاندار بنگلے سے بہت ہی ناقابل برداشت قسم کی بدبو آرہی تھی۔ بنگلے کے آس پاس سے گزرنے والے ناک بھوں چڑھے گزر جاتے تھے، مگر جو رہائشی تھے ان سے یہ اعصاب شکن بدبو برداشت نہیں ہو پا رہی تھی، آخر چند لوگ جمع ہوئے اور اس مکان کے پاس گئے جو مکمل طور پر اندر سے بند پایا۔ دروازے پر بارہا چیخ چیخ کر آوازیں دینے اور گھونسوں، لاتوں اور مکوں سے دستک دینے کے بعد بھی شنوائی نہ ہوئی تو دروازہ توڑ کر اندر جانے کا فیصلہ ہوا۔ چند جوانوں نے دروازہ بمشکل توڑا اور اندر داخل ہوا۔ یک کے بعد دیگر وہ کمروں میں جھانک تانک کرتے گئے مگر جس کمرے سے بدبو کی ہوک اٹھ رہی تھی اس کمرے میں ایک ماسٹر بیڈ پر ایک بزرگ اوندھے منہ پڑا ہوا تھا۔ بابا جی گھر کا بڑا تھا اور نامعلوم وجوہات سے اس کی موت واقع ہو چکی تھی۔ بدبو اس کے جسم کے سڑنے سے آرہی تھی۔ بہرحال چھان پھٹک سے اس کے بیٹے کا نمبر ہاتھ لگا۔ جس پر اطلاع دی گئی تو معلوم ہوا کہ صاحب کے بچے ملک سے باہر رہتے تھے اور اس کا ملازم اس کی دیکھ بھال کرتا تھا جو اپنی کسی مجبوری کی بنا پر کئی دنوں سے رخصت پر تھے۔ 

یہ ہیں قصبے اور شہر، جہاں کسی کو کسی کا حتی کہ پڑوسی کو ہمسائے کا خیال تک نہیں۔ حتی کہ مشینی زندگی میں محفل محفل ویرانی اور بے کیفی چھائی ہوئی ہے۔ نہ گفتگو میں لطف باقی ہے اور نہ میل جول میں میں وہ چین و قرار۔ سلام ہو ان بندگان خدا پر، تبت میں تہذیب و تمدن میں غیر معمولی روایات جہاں ثقافت و تہذیب کو تازگی اور ندرت بخشتی ہے وہاں انسانی سماج میں حساسیت اور ہمدردی کے بیش بہا اقدار وضع کرتی ہیں۔ چوپال ہو یا اجتماعی عوامی امور، سماجی امور میں حدود و قیود کی پابندیاں ہوں یا محصولات و واجبات کے تعین یہاں ہر طور پر گاوں، موضع، محلہ، ڈاق، خاندان اور اقربا تک کے جامع روایات مرتب و مرصع تھے۔ امراء و روءسا خاص کر گویئے، ملاح، جولاہا اور پاپوش ساز تک کے لئے محصولات و واجبات رائج تھے۔ 

ان سماجی انتظامات میں سے ایک اہم معاملہ ڈاق کا تھا۔ یعنی کسی بھی خاندان کے انتہائی قریبی رشتہ داروں یا تعلق داروں کا ایسا گروہ جو باہم مل کر کم سے کم ایک محلے کے لوگوں کا سا کردار ادا کرے۔ ان میں سے گھرانوں کی مزید تقسیم ژھن پہ یعنی "ہنگامی ٹیم" کی سی ترتیب پر ہوتی تھی۔ یہ ہنگامی ٹیم ہر کسی غمی خوشی کی تقریب کے انعقاد یا وقوع پذیر ہونے پر فوری ایکشن میں آتی تھی۔ یہ زیادہ سے زیادہ ایسے چار خاندانوں کے درمیان بنتی تھی جو باہم اتنے قرابت دار نہ ہوں کہ غمی خوشی میں ایک دوسرے کے انتظامی امور کی انجام دہی کے لئے وقت نہ دے سکے۔ ان کی ذمہ داریوں میں غمی کے موقع پر خاص کر فوتگی کی صورت میں مردے کو غسل دینے کے لئے پانی گرم کروانا، جلانے والی لکڑی تیار کرنا، اس زمانے میں نذر و نیاز کی تیاری کے لئے آٹا پیسنے لے جانا، مردے کو غسل دینا، قبرستان کے لئے جگہ مختص کرنا، کھدائی کے لئے اوزار تیار کرنا، نیاز کھلانا، برتن وغیرہ جمع کرنا، مہمانوں کو بٹھانا، قرآن خوانی کے انتظامات کو دیکھنا حتی کہ سات دن تک لواحقین کے گھر پر کھانے پینے کا انتظام کرنا تک ان کے ذمے ہوتے تھے۔ اس کے عوض ان کو مرنے والے کے کپڑے، نئے اور پرانے ملتے تھے۔ اس کے علاوہ خوشی کے مواقع پر تیاری کی میٹنگ سے لے کر اختتامی دعوت تک تمام تر ذمہ داری انہی ژھن پونگ کے کندھے پر ہوتی تھیں۔ ہاں ان مواقع پر مہمانوں، خاص کر باراتیوں کے ہاتھ دھلوانے کے عوض خصوصی لفافے، گھر سے نکلنے یا گھر میں داخل ہوتے وقت دروازے پر نذر کے پیسے، بہو کی صورت میں جہیز کے مختصر سامان کی وصولی یا رکھوالی کے ساتھ سسرال تک پہنچانے کے عوض لفافہ بند نقدی، دلہا دلہن کو مہندی پہنچانے، دلہا کی طرف سے دلہن کو شادی کے دن دوپہر کا یا شام کا کھانا پہنچانے، بارات میں تحائف تقسیم کرنے، اور بارات کو رخصت کرنے کے عوض بھی لفافہ بند نقدی بٹور لیتے تھے۔ 

بڑی تقریبات کے لئے گائے بیل زبح کرنے، چولہا چڑھانے اور برتن تیار کرنے، کھلانے پلانے، تمام مدعوین کی حاضری لینے، پہنچ نہ پانے والے ضعفاء و بیماران اور تو اور مسافرین تک کو کھانے پہنچانے کی ذمہ داری یہی گروپ ادا کرتا ہے۔ 

شہروں کے برعکس گاوں میں آج بھی حساب کتاب موجود ہیں مگر گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ انسانوں میں حائل دوریاں شہری ماحول پیدا کرنے لگی ہیں اور یہی بے کیفی اور ناہمدردی سماج میں مسائل کا سبب بن رہی ہے۔ روایات اور تہذیب کے باغی آج فون کال پر دعوتیں دیتے اور تقریبات نمٹاتے تو ہیں مگر خدا وہ وقت نہ لائے کہ کسی کے گھر کی بدبو کسی کا پرسان حال کی وجہ بنے ۔۔۔۔!!! معاذاللہ