انگریزی میڈئیم ۔۔۔!!

 انگریزی میڈئیم ۔۔۔!!

انگریزی میڈیم والوں کی اردو کی کلاس لینا بالکل ایسا ہے کہ جیسے عجلت میں آدمی زنانہ بیت الخلا استعمال کرے۔ سب بچے پڑھانے والے کو آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر بڑی بے اعتنائی سے یوں دیکھتے ہیں کہ جیسے آدمی استاد نہیں کوئی اشتہاری ہو۔ اردو کو لائیٹ لینا ویسے تو ہمارا بہت پرانا پرمپرہ ہے مگر انگریزی میڈیم والے اردو کا جو حال کرتے ہیں ایسی کلاسیکل چھترول تو ہماری پولیس بھی کسی کی نہیں کر سکتی۔ انگریزی میڈیئم کا معجزہ ہے یا کوایجوکیشن کا اثر خدا معلوم، انگریزوں کے ان پڑپوتوں کی خوشخطی بھی اب مردانہ سی نہیں دکھتی۔ پنسل کو نوک کے قریب سے پکڑ کر گردن کو دائیں شانے کی اور لڑھکا کر یائے معروف کے پیندے کو یوں گھماتے ہیں کہ بیچاری نویں مہینے کی دکھائی دینے لگتی ہے۔ میم کا تو خدا ہی حافظ ہے۔ میم کی ایسی شکل یا تو بھوکے کچھوے کی خول سے باہر نکلتی پوری گردن کی جیسی نظر آتی ہے یا پھر شتر مرغ کی، یا پھر کھسیانی بلی کی دم کی جب وہ کھمبا نوچنے لگتی ہے۔ ف اور ق میں بس اتنی تمیز کرتے ہیں جتنی چودھدری شجاعت اور مولانا صاحب کے مابین نظر آتی ہے۔ منتظمین اس سے یہ فال نیک نکالتے ہیں کہ کچی کلاسوں میں ماہر استانیوں کے ہاتھوں بننے والے گڑھوں کی مٹی یوں ہی خراب ہوتی ہے۔ انگریزی کے طلبہ غالب کی شاعری کو دافع کبر استکبار کی اکسیر سمجھتے ہیں اور پھرپھر انگریزی بولنے والوں کی حالت حصہ نظم میں غالب و اقبال کی غزلیں دیکھ کر پلیگ کے مریضوں کی سی بن جاتی ہے۔ الفاظ و معانی کی مشق حفظ و تکرار میں بعض کے ایسے منہ لٹک جاتے ہیں کہ بادل نخواستہ یتمی کے آثار نمائیاں ہونے لگتے ہیں۔ ٹیپو سلطان کی نصیحت پڑھنے کے بعد جب خلاصہ یاد کرنے کو دیتے ہیں تو ایسا تاثر دینے لگتے ہیں کہ جیسے ٹیپو سلطان ہمارے چاچے مامے ہوں یا ہمیں ان سے کوئی ذاتی دلچسپی ہو اور ہم خدا نخواستہ ٹیپو کے مقبرے کی تعمیر میں ان سے چندہ اکھٹا کرنے آئے ہوں ، یا پھر ان کے نام پہ ووٹ مانگ رہے ہوں۔ البتہ کو ایجوکیشن کے ماحول میں طلبہ میر تقی میر کی خوب تعظیم بجا لاتے ہیں۔ دوران تدریس غزل، علی الخصوص اشعار کی تشریح کے وقت اساتذہ یوں بیجا حبس اور گھٹن سی محسوس کرتے ہیں گویا یہ کوئی کلاس روم نہیں بلکہ لیبر روم ہے۔ حالانکہ استاد کا مکمل دھیان کتاب پر ہوتا ہے، پھر بھی پیٹھ پر جرجریاں پھیلتی محسوس ہوتی ہیں۔ سر کے عقبی حصے میں جماو اور تناو سا محسوس ہوتا ہے۔ قرین قیاس ہے کہ بچے شرافت سے استاد کو ہی سنتے ہوں گے اور میر کی خداترسی کے طفیل شیطان کے شر سے محفوظ ہی رہتے ہوں گے۔ بچے تو بچے ہیں اکثر یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ اگر کسی کے والدین یا سرپرست نے اپنے بچے کو اردو کی کلاس کے دوران وزٹ کیا تو اردو پڑھاتا دیکھ کر وہ یوں خنس کھا جاتے ہیں کہ اگلے دو مہینے تک فیس بھی جمع نہیں کراتے اور وجہ یہ بتاتے ہیں کہ آپ کے سکول کا کوئی سٹینڈرڈ ہی نہیں۔ اب اس کا حل بھی اردو کے اساتذہ نکال چکے ہیں، اب وہ والدین کی موجودگی میں اردو کے مشکل الفاظ کے معانی انگریزی میں بتلاتے ہیں۔ پرانے اساتذہ فرماتے ہیں کہ اس سے بچوں پر بھی دھاک بٹھا رہتا ہے۔ بچہ استاد سے شٹ اپ، ایڈئیٹ، گیٹ آوٹ نہ سن لیں تو اسے گھاس بھی نہیں ڈالتا۔ 

اردو وہ مضمون ہے جس کا ہر کوئی استاد ہے، ایم بی اے، ایم ایس سی میتھ، ایم اے کمیسٹری تا سکول کا سکیورٹی گارڈ تک اردو سے ہاتھ کرتے نظر آتے ہیں۔ گویا جو بھی اردو پڑھ سکتا ہے انہی کو ہی اردو سکھلانے پر متعین کر ڈالتے ہیں۔ ایک بچے کو جب یہ کہا کہ جنت نظیر کو جملوں میں استعمال کریں تو لکھتا ہے کہ "جنت نظیر کو ملنا مشکل نظر آتی ہے"۔ ایک اور ہونہار بچے نے تو کمال کر دیا، غم بانٹنے کو جملوں میں استعمال کرتے ہوئے لکھا ہے کہ "غم حلوہ نہیں ہے، میری مانو تو اسے مت بانٹو، پلیز"۔ 

اردو کی کمزوری میں قصور سب سے پہلے خود اردو کا اپنا ہے۔ اس نے خود کو اتنا عام کر کے سستا کردیا ہے کہ اب اس کے لئے استاد بھی انگریزی کی نسبت سستا مقرر کیا جاتا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ غلط اردو بولنے والوں کی اتنی اکثریت ہے کہ صحیح بولنے والے کو اپنی قابلیت پر شک گزرنے لگتا ہے۔ انگریزی کا ٹیچر ٹپ ٹاپ ہو کر، ٹائی شائی پہن کر آتا ہے جبکہ اردو کا استاد تو ایسے آتا ہے جیسے وہ تھانے میں زیادتی کیس میں رپٹ لکھوانے آیا ہو۔ ڈرا ڈرا سا، سہما سہما سا، غالبا اس لئے بھی اس کی حالت ایسی ہوتی ہوگی کیونکہ نہ اردو ان کا شعبہ ہوتا ہے نہ شغف اور نہ سیاق و سباق کے اعتبار سے موزوں اہلیت کا حامل ہوتا ہے۔ اس لئے غم روزگار کے ہاتھوں اسیر ہو کر وہ اردو پڑھانے پر مجبور ہوتا ہے۔ گویا کوئی گڈریا انعام کی لالچ میں کشتی لڑنے کے لئے اکھاڑے میں اتر جاتا ہے۔