- Get link
- X
- Other Apps
کیا اچھا ہے ۔۔۔!!!
آئیں ایک اصول طے کر لیں کہ اب کوئی اصول نہیں ہوگا۔ اس سے کیا ہوگا؟۔ اس سے کچھ اور ہو نہ ہو یہ ضرور ہوگا کہ "میری مرضی" چل جائے گی۔ کیا اچھا ہے، کیا برا ہے، کیا کرنا ہے کیا نہیں یہ سب کسی کے لئے کوئی معنی نہیں رکھے گا، تو اچھا یہ ہوگا کہ اچھا کچھ بھی نہیں ہوگا اور برا لگنے والے کو اپنی مرضی اور اچھا لگنے والے کو اپنی منشا اپنے تک محدود رکھنی ہوگی اور یوں سب کو یکساں کرنے والے سب کو منتشر کر کے دم لیں گے اور انتشار بھی ایسا کہ انتشار کا کوئی معیار نہ ہوگا۔
پابندی جب کسی کی مجبوری بن جاتی ہے تو آزادی کے نام پر پابندی کو قید و بند گردانتی ہے۔
زرا ایک پل کو نظام فطرت پر غور کریں، تو معلوم ہوتا ہے کہ رات کو خوشنما نظر آنے والے لاکھوں ٹمٹماتے تاروں کو صبح روشن ہڑپ کر جاتی ہے۔ شام کی کالی چادر اس نیر وتاباں روشنی کے گولے کو اپنے حصار میں لے کر مدھم کر دیتی ہے اور رات کی گود میں چپ سادھے سو جاتی ہے۔ علی صبح رات کی رانی اس آگ کے بھگولے کو صبح روشن کو سونپ دیتی ہے یوں پھر وہی موتیوں بھرا تھال نیلگوں سمندر کی مانند چمک اٹھتا ہے۔
بیج کو پودا بننے میں، پھول کو پھل بننے میں، خوشے کو خوراک بننے میں، بچے کو آدمی بننے میں آدمی کو پیوند خاک ہونے میں کوئی جلدی نہیں، سب ایک مقررہ وقت کے مطابق ہو رہا ہوتا ہے۔
درخت کی چوٹی پر لٹکتے پھل کے دل میں رہنے والا بیج یہ جانتا ہے کہ وہ خاک میں مل جائے گا تو اسی سے نئی زندگی پھوٹے گی۔ وہ یہ ضد نہیں کرتا کہ پھل، پتے اور شاخیں زمین سے باہر کیوں رہتی ہیں۔ اور ہاں شاخیں اس پر مغرور و گھمنڈی بھی نہیں کہ زمین بوس ہونے والے بیج سے وہ کسی طور برتر ہیں۔
پورا پودا بیج بن کر حیات کو دوام نہیں دے سکتا، یہ بیج کی قسمت ہے کہ اس نے پودا بننا ہے اور یہ پودے کا مقدر ہے کہ بیج سے بیر مول کر وہ اپنی نوع کو دوام نہیں دے سکتا۔
تنوع تفریق ہے تضاد نہیں، اور بقا و دوام نظام سے ہے تنہائی کم مائیگی و ناقدری ہے۔
یقین جانیئے، پابند رہنے والے ہی آزادی کا لطف لے سکتے ہیں۔ پابندی کیسی؟ اور پابندی کیوں؟
وہ اس لئے کہ ایک ہی پودے کے وہ بیج جو ریت میں بو دیں، سایئے میں بو دیں یا پھر زرخیز زمین میں بو دیں، وہ اصلا یکساں ہو کر بھی ایک جیسے پھل پھول نہیں سکتے۔
بیج پابند ہے کہ نمو کے لئے زرخیز زمین، مناسب حرارت و روشنی، نمی اور ہوا حاصل کرے، اس کے لئے اس کو کتنے ہی کھٹن اور پرخطر مراحل سے کیوں نہ گزرنا پڑے وگرنہ ان سے بیزاری اور آزادی بیج کے لئے مفید نہیں۔
انسان صرف جسم نہیں روح بھی ہیں۔ صرف خیالات نہیں احساسات بھی ہیں اور صرف خود بین نہیں دوراندیش بھی ہیں، آزاد ہی نہیں پابند بھی ہیں۔
آپ کی مرضی کسی کے خیال، احساس، آزادی یا پابندی میں مخول ہوں تو اس عقل سلیم کے حامل مخلوق کو یہ خصوصیت بھی عطا فرمائی ہے کہ وہ خودبینی، خود فریبی اور خود پسندی، خودنمائی سے بے بہرہ ہو کر کسی دوسرے کی لاج رکھے، اور یہی قربانی ہے جو صرف انسان میں ہے جو بسا اوقات انتہائی غیر فطری اور آزادی کے عین خلاف نظر آتی ہے۔ جو بظاہر مجبوری تو نظر آتی ہے مگر اس کے لئے نہایت تکریم اور تعظیم کی باعث ہوتی ہے۔ جسے سطحی اذہان قبولتے نہیں۔
یقین جانئیے ۔۔۔!!!
اگر انسان اس بات پر پابند ہو جائیں کہ ہم دوسرے کی خوشی میں خوش ہوں گے" تب دنیا میں کوئی دکھیارا نہیں رہے گا ۔۔۔۔!!!
- Get link
- X
- Other Apps