- Get link
- X
- Other Apps
سیدنا امام عالی مقام امام حسین علیہ السلام کا قیام، 3 شعبان 60 ھ میں یزید کی بیعت کے انکار سے 10 محرم الحرام 60 ھ عاشور کے دن آپ کی شہادت تک ـ 175 دن تک جاری رہا:
بیعت سے انکار کے بعد مکہ کی طرف ہجرت تک 12 دن مدینہ میں رہے؛
4 مہینے اور 10 دن مکہ میں قیام کیا؛
23 دن کی مدت مکہ سے کربلا تک سفر میں صرف ہوئی؛
2 محرم سے 10 محرم تک کربلا میں قیام کیا۔
اگر سفر اسراء اور قیام شام نیز 20 صفر 61 ھ تک واپس کربلا آمد کے مجموعی کم از کم 40 دن اور واپس مدینہ پہونچنے کے 20 ایام اضافہ کیے جائیں تو قافلہ حسینی کا کل سفر کم از کم 235 دن سے زیادہ کا ہو گا۔
افسوس ۔۔۔!!!
235 دنوں میں 2 مسلم کاروانوں سے دوران سفر ملے جنہوں نے واپسی کا "نیک مشورہ" دے ڈالا، دو بڑے نامی گرامی خاندانی جنگجوں نے امام عالی مقام کی درخواست نصرت "مسترد" کر دی۔ جبکہ دو قافلے مختلف مقامات سے کارواں میں شامل ہوئے۔
افسوس ۔۔۔!!
عاشور کی شب چراغ کی لو بجھا دینے کے بعد سے عصر عاشور تک، 235 دنوں کے قیام میں حق پر جان نچھاور کرنے والے 69 کے قریب ملے، جن میں خانوادہ امام عالی مقام و اقرباء علیہ السلام کی تعداد بھی کافی تھی، بزرگ، نونہال اور بچے بھی لشکر کا حصہ رہے۔
افسوس ۔۔۔!!!
کربلا معلی میں مسافرین کو روکنے پر مجبور کرنے والا، ساتویں سے دسویں کی صبح تک اہل حرم و لشکر حسینی پر پانی بند کرنے والا، فوج اشقیاں کا سپہ سالار اور ان کے غلاموں کو فقط "ایک رات" میں وہ سب کچھ نظر آیا۔ جو بدر و حنین اور خیبر و خندق کے عشاق، رسالت مآب کا حبیب کبریا ہونے پر کامل ایمان رکھنے والے لاکھوں مسلمانوں کو 235 دنوں میں نظر نہ آیا۔۔۔۔۔!!
کربلا کی داستان اتنی سادہ نہیں، یہاں کے کردار کسی بھی دوسری جنگ کے کرداروں کی طرح فقط جنگجو نہیں، یہ واقع ہر مرحلے پر دعوت فکر دیتا ہے۔ ہر زوایہ ایک الگ فلسفہ کا حامل ہے۔ ہر کردار کا اپنا نکتہ آغاز، عروج اور انجام ہے۔۔۔۔ سبحان اللہ و بحمدہ سبحان اللہ العظیم و بحمدہ استغفراللہ۔
- Get link
- X
- Other Apps