"غدیر" ایک تعارف

 تعارف ان سے کرانا پڑھتا ہے جو کسی کی پہچان نہ رکھتا ہو، پھر ان سے کیا تعارف کروانا جو ایک ہی شہر کے رہنے والے ہوں، ایک ساتھ ایک مقصد کے لئے گھر سے نکلے ہوں، پھر کئی دنوں سے ساتھ ساتھ ہوں، ہمارے ہاں بغیر رسمی تعارف کے بھی ساتھ حج کرنے والے مختلف ذبان و ثقافت کے لوگ باہم "رفیق" بن جاتے ہیں۔ پھر کسی ایسے کا تعارف جو پہلے ہی کئی واقعات کی شہرت کا خود سبب ہو۔ چلیں پھر بھی تعارف زبانی سے عموما لوگ پہچان جاتے ہیں۔ لوگ بھی جب ایسے ہوں جنہیں معلوم ہو کہ وہ عاقل ہیں، بالغ ہیں اور صاحب استطاعت ہیں، پھر تعارف کروانے والا کوئی ایسا ہو جو آپ کی امانتوں کا پاس رکھنے والا ہو، وہ ہو جس پر سب کو اعتماد ہو۔ مگر یاد رہے، جب "نہ پہچاننا" خطرے سے خالی نہ ہو تب اصل رہنما کا فرض بنتا ہے کہ لوگوں کو متوجہ اور مخاطب کر کے زبان سے بیان کرنے کے ساتھ ساتھ ہاتھ کے اشاروں سے دکھایا جائے۔ کسی اونچی جگہ لا کر ہاتھوں کو بلند کر کے دکھائے تو؟ مطلب، تعارف کروانے والا بڑے فخر اور جذبے سے کروا رہا ہے، اور متعارف ہونے والا اپنی اصرار یا تاکید پر کروا رہا ہوتا تو کم سے کم تعارف کروانے والے کو ہاتھ کو پکڑ کر اٹھانے کی حاجت نہ رہتی، وہ خود ہی اپنا ہاتھ بلند کر کے لہراتے۔ خیر، کم سے کم ایسا "تعارف" جسمانی طور پر پہچان کی آخری حد ہے۔ اس کے بعد بھی پہچاننے سے انکار کرنے والا صرف "انجان" نہیں ہوتا، یہی تو اصل وہ لوگ ہوتے ہیں جو صحیح سے پہچانتے ہیں مگر اپنے سماجی مرتبے کے مقابلے میں علمی رتبے میں کمزوری کا ڈر انہیں اپنے سے بہتر کسی قبولنے نہیں دیتی اس لئے وہ سنی ان سنی کرکے پہنچاننے سے انکار کرنے میں عافیت سمجھتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہوتے ہیں جو دل و دماغ کی کشمکش میں مبتلا ہوتے ہیں"۔

ہم نے دیکھا ہے "ایسے لوگ اپنے سے بڑے کے تعارف پر فقط "ہممم، اچھآ"، پر موقوف کرتے ہیں"-
بہر حال آپ کو "یوم غدیر مبارک ہو"-
x