"اف طاری" ۔۔۔!!

رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں کے طفیل روزی مات پیٹ کا تھوڑا ہلکا ہوگیا تھا۔ اسے یقین تھا کہ روزے جاتے جاتے اس کو سلم اور سمارٹ بنا دے گا۔ اتوار کا دن ہے اور آج کام دھندے پہ ناغہ ہے اور فراغت میں اپنی ہنڈا سیونٹی بائیک کو ذرا پانی شانی مار رہا ہے۔ شام کو اپنے سسرال میں افطاری پر مدعو تھے۔ قوطے کہتے ہیں، سسرال دعوتیں کھانے کے لئے اچھا انتخاب ہوسکتا ہے مگر کیا ہے کہ وہ بیوی کا میکہ بھی ہوتا ہے۔
قوطے اور اس کی بیوئی اور ایک چند ماہ کی چھوٹی بچی نے آج سسرال میں دعوت پع جانا ہے جو اس کی بیوی نے کم و بیش محلے میں سبھی کو دو دن پہلے سے سنوائی ہوئی ہے۔ وقت بھی طے ہے اور تیاریاں بھی اسی حساب سے ذرا جلدی جلدی کرنی ہے سو قوطے بائیک کی فائن ٹیون کر کے تیار کروا رہا ہے۔ صابن اور سرف سے دھو چکنے کے بعد اب بائیک سوکھنے کے لئے دھوپ میں پڑی ہے۔ قوطے سامان غسال سمیٹتے ہوئے سوچ رہا ہے کہ اب کے بار اسے بیچ کر کوئی آلٹو ہی کیوں نہ لیا جائے، اب تو گھر میں لوگ بھی بڑھ کر پانچ ہو گئے ہیں۔ یعنی تین تو وہ خود ہوئے اور باقی دو کا وزن بھی جمع کر کے بیوی کا کل وزن نکال کر جواب دیا ہے۔ حساب کتاب میں قوطے سے کبھی بھول چوک ممکن ہی کہاں۔ اب بیچاری بائیک بھی پرانی ہوگئی ہے مگر کیا کریں کہ مہنگائی ہی ایسی ہے۔
افطاری کا وقت قریب تر ہوتا جارہا ہے قوطے نے بیوی سے کہا، تھوڑا جلدی نکلیں گے تو بہتر ہوگا۔ مشینری کا کیا بھروسہ، پھر سڑکیں بھی کھنڈر بنی ہوئی ہیں۔ مگر بیوی بولی ابھی پورے پچاس منٹ ہے۔ بیس منٹ میں وہاں پہنچ جائیں گے باقی تیس منٹ میں کیا ان کے چولہے چڑھاتی رہوں گی۔ ویسے بھی ذرا دیر سے جانے سے رعب بٹھا رہتا ہے۔
ابھی افطاری میں وقت بہت ہے یہ کہہ کر اس نے الماری کھولی اور پوٹلیاں نکال کر اسے چھوٹی چھوٹی مزید پوٹلیوں میں باندھنا شروع کیا۔ ایک میں پسا ہوا زیرہ ڈال دیا، دوسرے میں پالک کے پسے ہوئے پتے، ایک میں سونف، دوسری میں درچینی اور گرم مصالحہ، تیسرے میں لوبیے کے چند دانے اور حد تو یہ ہے کہ ایک میں پرانے چاول آدھ ایک کلو بھی ڈال دیا۔ ان کی تیاری میں شام یوں نکلنے لگی، جلدی سے کپڑے بدلے، بچی کو تیار کیا اور قوطے کو بائیک تیار کرنے کو کہہ دیا۔
قوطے بائیک کے زور زور سے کک مارنے لگا، سوکھے حقے کی سی گڑ گڑ کی آواز آتی رہی، سٹارٹ ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ اس نے فورا سے پلک چیک کیا، پلک کو خشک کیا اور پھر کک مارنے لگا۔ اب کے بھی کوئی حوصلہ افزا بات نہ بن سکی۔ اب وہ بھوک، دیر اور بیوی کی ڈانٹ سن کر دباو میں آیا اور سارا زور کک پر لگاتا رہا۔ ساری تاریں دیکھ ڈالی۔ کھینچ کھانچ کر دیکھا لائنیں بھی درست ہیں۔ وقت نکلنے کا خدشہ دل و دماغ پر ایسا سوار تھا کہ کچھ بھی سجائی نہیں دے رہا تھا۔ ایسے میں اس کی ایک زور دار کک سے کک کا ہنڈل نٹ سے ذرا اوپر سے ٹوٹ کر الگ ہوگیا۔ اب اس کی طبعیت اور عتاب پر آئی۔ اس نے ناچار بیوی سے دھکا لگوانے کی درخواست کی۔ بیوی نے کہا کہ پہلے گھر کی چاردیواری میں لئے چلو بائیک کو، میں وہاں دھکا لگاوں گی۔ یہاں سر بازار دھکا دے کر خدانخواستہ سٹارٹ ہو گئی تو کل سے محلے کی عورتیں مجھے دھکے والی آنٹی کہیں گے۔ پھر محلے میں کسی کی بائیک نہ چلی تو مجھے لینے آجائیں گے۔
بحر حال میں لان میں دھکے لگوا کر بائیک سٹارٹ کروا لیا۔ اب وہ جلدی سے پیچھے بیٹھ گئی۔ بھاری بھر کم بھابی کے تشریف رکھتے ہی بائیک کی حالت کچھ سقیم ہوئی، ذرا سی دیر کو اس کی حرکت دیکھ کر ایسا لگا کہ جیسے شراب کے ڈرم سے نکلا چوہا سڑک پر مٹک مٹک کر چل رہا ہو۔ مشکل سے قوطے راہ راست پر آیا اور ذرا رفتار بڑھا کر چل دیئے۔ اب افطاری میں بیس منٹ ہی بچتے تھے۔ پوری سڑک ری کارپیٹنگ کے لئے اکھاڑی ہوئی تھی۔ جانے کیا کوئی نوکیلی چیز چپ گئی کہ بائیک کے پچھلے پہیے سے پھسس کی آواز آئی اور ہوا نکل گئی۔ اب بھابی بھی اسی پر سوار۔ اس نے فورا سے پہلے بیوی کو اترنے کو بولا۔ پھر بائیک کو کنارے لگانے کا انتظام کیا۔ پنکچر کی دکان نصیب سے کوئی پندرہ بیس میٹر کی دوری پر تھی۔ وہ اسے کشاں کشاں پنکچر والے کے پاس لے گیا اور بیوی کو پیچھے پیچھے آرام آرام سے آنے کو بولا۔ قوطے آگے آگے، بیوی پیچھے پیچھے۔ پنکچر کی دکان پر استاد افطاری کے لئے بس نکلنے والا تھا کہ خوش قسمتی سے مقفل ہوتے ہوتے قوطے کی گزارش پر اس نے حامی بھر لی مگر شرط یہ رکھی کہ ایک کی پنکچر ہو تو بنوالیں گے وگرنہ کام کل ہوگا۔ یہ کہہ کر اسے نے ٹائر کھولا۔ ادھر بیوی نے احتیاط کجھور کے چند دانے ساتھ رکھ لئے اگر راستے میں وقت ہوا تو کم سے کم روزہ تو کھول میں لیں گے۔ سائیکل میں ایک ہی پنکچر تھا۔
خدا خدا کر کے چل پڑے۔ ابھی چار منٹ کا راستہ بمشکل طے ہوا ہوگا کہ آذانیں شروع ہو گئیں۔ قوطے اور بیوی نے کجھور سے روزہ بائیک پر ہی افطار کیا۔
ذرا آگے چل کر یہ بھید کھلا کہ بائیک کی لائٹیں بھی کام کی نہیں ہے۔ جب اس کی بیوی نے یہ سنا تو بھڑک کر بولی منحوس میں نے نہیں کہا تھا کہ یا کوئی مشینری مت رکھو یا بنوا کر رکھو، یہ کہہ کر اس نے قوطے کے دائیں پہلو پر اس زور سے چٹکی کاٹی کہ قوطے، بیوی بچے سمیٹ دوسرے پہلو پر سڑک پر آن بیٹھے۔ قوطے کی کہنیاں، گٹھنے اور ٹخنے بری طرح چھل گئے۔ البتہ بچی کو بچاتے بچاتے ماں سلامت رہی۔ بائیک کو کھڑا کیا تو کیا دیکھتے ہیں کہ جس ٹائر پر وزنی بیوی آن پڑی اس کا رم ٹیڑھا ہو چکا ہے۔ اب کوئی دکان بھی کھلی نہیں تھی۔ بائیک چلانے کی کوشش کی تو وہ چل تو رہی تھی مگر سڑک پر گول گول گھومتی آگے بڑھتی تھی۔ بمشکل گھر کے نزدیک پہنچے تھے کہ تڑاخ کی ایک اور آواز آئی، اب کہ سائیکل کا ایک پہیہ زندگی کا بھاری بھر کم پہیئے کی چوٹ سے چلنے کے قابل نہ رہا تھا۔ یوں قوطے آگے آگے بائیک کو کھیتا بیوی پیچھے سے جی بھر بھر کر گالیاں نکالتی ساتھ ساتھ چلتی رہی۔
سسرال پہنچا تو مائدہ لذایذ بری طرح لٹ چکا تھا۔ کچھ ٹھنڈے پکوڑے اور نمک پارے بچے ہوئے تھے ان کے ساتھ ایک کپ چائے سے تواضح تمام ہوئی۔ سسر نے پوچھا بیٹا اتنی دیر کیوں لگا دی، تو قوطے کی بیوی جھٹ سے بول پڑی،
"کیا کریں ابا جی، میں تو دوپہر سے تیار بیٹھی تھی مگر ان کو بیکار کے کاموں سے فرصت ملتی تو نا۔۔۔"
قوطے شرمساری میں ڈوبے، کان کھجانے کے لئے کان میں انگلی ڈالنے لگا تو کھڑچ کھڑچ کی آواز آئی تو کیا دیکھتے ہیں کہ لوبیئے کے چند دانے ان کے کان میں گھسے ہوئے تھے۔۔۔۔۔۔۔!! 🤣