- Get link
- X
- Other Apps
صاحبو،
حضرت اسد اللہ خان غالب گویا ہیں کہ!
"غم ہستی کا اسد کس سے ہو جز مرگ علاج"
انسان بھلے کتنے ہی کنگلے کیوں نہ ہوں، رنج و غم کا وہ امیر کبیر ہوتا ہے۔ یوں انسان اپنے رنج و غم، محرومی و محتاجی اور دگر انحصاری کو زندگی کی رنگینیوں سے بھرپور کتاب کا دیمک سمجھتے ہیں۔ یہی وہ اندوہناک سوزن زیست ہے جو اپنے دود سیاہ سے رونگ رونگ سپید کردیتا ہے۔ یوں انسان ان محرومیوں، مجبوریوں اور لاچاری کو بڑے مسئلے گردانتے ہیں۔
اکثریت کے نزدیک چند اہم مسائل میں معاشی بدحالی، ذہنی تناو، نفسیاتی پیچیدگی، غربت، بے روزگاری اور سہولیات کا نارسا رہنا ہیں۔
تاہم اگر کسی شخص کو مسئلے کا ادراک ہو جائے تو مسئلہ مسئلہ نہیں رہتا یہ نہ صرف حل ہو ہی جاتا ہے بلکہ اس انسان کو مسئلے کا ادراک ایک مہارت بھی عطا کرتا ہے۔
قارئین ذی وقار ۔۔۔!!
مسئلہ آخر کیا ہے؟
بس یہی ایک گھتی ہے جسے سلجھانے کی دیر ہے۔ پھر سارے مسئلے حل ہوتے ہیں۔
اوپر گنے گئے مسائل جن کو ہماری بھاری اکثریت مسئلہ سمجھتی ہیں۔ بلکہ میرے نزدیک یہ مسئلے نہیں۔ کیوں نہیں؟، تو آیئے مسئلے کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
بیروزگاری، مہنگائی، غربت، سہولیات کی عدم دستیابی، نفسیاتی، جسمانی اور ذہنی مسائل، تنگدستی اور جہالت یہ سب ایک درخت کے پھل ہیں۔ یہ پھل ہم اس وقت تک کھاتے رہیں گے، یا کھانے پر مجبور ہوتے رہیں گے جب تک آپ ذیست کے اس درخت کو ملنے والی غذاوں پر غور نہیں کریں گے جو اس کی جڑیں، تنے اور شاخیں زمین سے لے رہی ہوتی ہیں۔ با الفاظ دیگرے یہ وہ اثرات ہیں جو کئی دیگر مسائل کی پیدا کردہ ہیں۔
مندرجہ بالا مسائل میں سے بیروزگاری کے مسئلے کو اسی مثال میں ڈال کر دیکھتے ہیں کہ آخر مسئلہ کیا ہے اور اس کا حل کیا ہے۔
بیروزگاری کسے کہتے ہیں، اگر کوئی شخص ذرائع آمدن سے محروم ہو اسے بیروزگاری کہتے ہیں۔ یاد رہے کہ پسند کا روزگار ملنے تک ہاتھ پر ہاتھ دھرے رہنا بیروزگاری نہیں ہے۔ اب بیروزگاری اس درخت کا پھل ہے۔ جس کا توانا تنا علم و ہنر کی کمی ہے۔ علم و ہنر کی کمی سے مراد پیداوار، مصنوعات اور منڈی سے متعلق علم کی کمی ہے۔ ضروری نہیں کہ ایک ایم بی اے پاس لڑکا صرف منیجر کی تعیناتی تک کچھ کرے نا۔ روزگار نوکری نہیں، ملازمت نہیں بلکہ ذرائع آمدن کا ہونا ہے۔تعلیم خواہ درسی، رسمی ہو یا غیر رسمی یا پھر تجربات و مشاہداتی ہو، علم ہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سکول، کالج اور یونیورسٹیوں کا دروازہ دیکھنے سے بھی محروم لوگوں کے پاس نہ صرف اچھا روزگار ہے بلکہ ان کے پاس یونیورسٹیوں کے فطین طلبہ برسر روزگار ہوتے ہیں۔ اس کی ایک اور شاخ رسوم و رواج زمانہ ہے جو ڈگری ہولڈر کو ذہنی و نفسیاتی طور ملازمت کے درپے کر دیتے ہیں۔ چھوٹی ملازمت و کام کاج، محنت مشقت کو وہ شخص اپنی توہین سمجھتا ہے اسی لئے وہ بیکار رہنا پسند کرتا ہے مگر چھوٹے موٹے کام کاج سے جی چراتا ہے۔ اب یہ شاخ ایک طرف بیروزگاری کا پھل دیتی ہے تو دوسری طرف ذہنی و نفسیاتی مسائل کا پھل بھی دیتی ہے۔
اب اس کا تنا جو تعلیم و تربیت میں علم و ہنر کا رسمی ہونا یا وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہ ہونا ہے۔ یا پھر تجربات، جہد مسلسل، ذاتی مشاہداتی علم سے دوری اور ملازمت کو حاصل کل سمجھنا بھی اس کے تنے کی تناوری میں کارفرما ہوتے ہیں۔ جو من جملہ ان شاخوں کے پھیلاو اور پھلوں کی پرورش میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔
اب اس کا علاج پھل کھا کر تھو تھو کرنے میں نہیں، ان کی شاخوں کو کاٹنے میں نہیں بلکہ ان کی جڑوں کو ان غذاوں سے پاک کرنا ہے جس کے لئے اس مسائل کے درخت کے اردگرد موجود زمین کی کھدائی ضروری ہے، وہ زمین ہمارا معاشرہ ہے جس سے یہ جڑیں اپنی خوراک لے رہی ہوتی ہیں۔
اب جڑیں کون کونسی خوراک لے رہی ہیں؟ اور کہاں تک پھیلی ہوئی ہیں؟۔
اسی مثال کو آگے لے کر جاتے ہیں تو بیروزگاری اور نفیساتی مسائل کا پھل جو غربت، علم و ہنر کی کمی اور غیر موزوں معاشرتی رویوں کی شاخوں پر لدے ہیں وہ ناموافق علم و ہنر اور وقت کے تقاضوں کے برخلاف تعلیم و ہنر کی فراہمی کے تنے سے جڑی ہیں۔ یہ تنا اپنی ان گنت چھوٹی چھوٹی جڑوں سے جو معاشرے کی زمین میں گہرائیوں تک مدفون ہیں سے غذائیت حاصل کر رہا ہوتا ہے۔ اس کی جڑیں تعلیمی اداروں میں منصوبہ بندی میں فقدان، اداراہ جاتی کمزوری اور متعلقہ اہلکاروں اور افراد پر سرمایہ کاری نہ ہونا جیسے مسائل ہیں۔ جو معاشرے سے اخلاقیات کا فقدان، اقربا پروری، نسلی و علاقائی تعصب، میرٹ کی پامالی، رشوت ستانی اورسفارش جیسی غذائیں حاصل کرتی ہیں جو من جملہ پھل کھانے والے کسان خود درخت کو کھلا رہے ہوتے ہیں۔
ان مسائل کا حل درخت لگانے والے اور اس درخت سے جڑی زمین پر رہنے والوں کے پاس اور کسان کا سافٹ وئیر ان کے دل و دماغ میں پیوست ہیں جہاں رویوں میں بہتری کی ضرورت ہے۔ اس سافٹ وئیر میں انسان دوستی، اجتماعیت، عالمگیریت اور سماجی خدمات کے پروگراموں پر حملہ آور وائرس موجود ہیں جو فقط احساس ذمہ داری کے اینٹی وائرس سے صاف ہوسکتے ہیں۔
احساس ذمہ داری پیدا کرنے کے لئے دلوں سے تعصبات کے کانٹوں کو نکال پھینکنے کی ضرورت ہے۔ علم بذریعہ عقل و شعور و تجربہ و مشاہدہ کو عام کرنے کی ضرورت ہے۔ اپنی ذمہ داری اپنے حد تک حتی المقدور ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ نقصان کھا کر بھی سچ اور حق کا ساتھ دینے، جان دے کر بھی انصاف کو سربلند کرنے اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے جو ان افراد کی بہتری کے لئے ضروری ہیں جو اداروں میں ہیں یا ہونگے، جو معاشرے میں ہیں یا ہوں گے۔ انسانوں کی بہتری کے بنا اداروں کی بہتری ممکن نہیں اور اداروں میں بہتری کے بنا مسائل کے حل ممکن نہیں۔۔۔۔!!
x
- Get link
- X
- Other Apps