(سکول کہانی)

 

تیسری قسط .....!!
سکول میں ایک دن وہ بھی آتا ہے جس کا کم وبیش سارے طلباء کو انتظار رہتا ہے, یعنی وہ دن ہے "سیر کا دن". آجکل اسے مطالعاتی دورہ کہا جاتا ہے اس زمانے میں سیر پارٹی کے نام سے معنون ہوتا تھا. ہمارا کلاس ٹیچر بھلا کا بانسری نواز اور ڈھولک بجانے میں تو اس کا کوئی ثانی نہ تھا. قدیم و جدید بلتی گانوں کے دلدادہ بھی تھے. ہفتہ پہلے سے سیر کی تیاری شروع کرنے کا اعلان ہوا. کلاس کا مانیٹر دو بڑے قد و قامت کے ساتھیوں کو لئے ڈھول کی تیاری میں جت جاتا ہے. کونہ کونہ چھان پھٹکنے کے بعد کہیں سے بکری کی کھال دھونڈنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں. ایک دو دن تک اسے کسی کوہل میں پتھروں کے نیچے ڈال کر بھگونے رکھ آتے ہیں پھر بناسپتی کے گول سے ڈبے کو مناسب سائز میں کاٹ کر اس کے تیز دھار والے سرے کو موڑ کر کسی موٹی تار پر لپیٹ لیتا ہے اور ڈبے کی نچلی سطح پر لکڑی کی چھال کی چوڑی نما کڑہ ڈال کر دھاگوں کی مدد سے کھال کو ٹین کے منہ پر لپیٹ کر تن لیتا ہے اور یوں ڈھول ڈھولک تیار ہوجاتے ہیں. ایک دو دن کڑی دھوپ میں تاپنے رکھنے کے بعد اس پر خوبانی کے تیل اور کالک کا گول دائرہ سال بنا کر ملتے رہتے ہیں. بجانے سے پہلے ذرا سی دیر کو آگ دکھاتے ہیں یوں لکڑی کے دو مناسب سائز کے تنکوں کو چھیل کر اسی سے بجاتے ہیں. پھر دور ہی کیا قریب کے ڈھول بھی سہانے لگنے لگتے ہیں. ایسی دلفریب آواز پیدا ہوتی ہے کہ سبھی کو بھا جاتی ہے اور منچلوں کو تھرکنے کا من کرتا ہے . پارٹی نکلنے سے ایک دن قبل تک لڑکے رشتہ داری, محلے داری یا پھر شناسائی کی بنیاد پر گروپوں میں بٹ جاتے ہیں. ہر ہر گروہ پندرہ سے پینتیس روپے تک فی کس پیسے جمع کرتے ہیں جو "ہنڈوالی" کہلاتا ہے. ہنڈوالی سامان کو لے کر ان کا عزیز بندہ علی الصبح گاوں سے ذرا سی اونچائی پر موجود سیرگاہ تک پہنچ کر کھانا وغیرہ تیار کرتا ہے. ادھر مائیں اور بہنیں وردی کی دھلائی شروع کرتی ہیں. کچھ لڑکے نائلون کےسفید جوتے بھی پانی میں بھگو کر چمکا لتے ہیں. چند منچلے جوتے پر بنی لائینوں میں سرخ اور نیلے یا پھر رنگ برنگ کے قلموں سے لائنیں کھینچ کر آرائش مکمل کر لیتے ہیں. مائیں بالوں میں ڈالنے کے لئے خوبانی کا تیل بھی رکھ لیتی ہے. چند لڑکے سرمے سے دیدہ و مژگاں کو تاب بھی دیتے ہیں. اگلی صبح بن ٹھن کر جب لڑکے سکول پہنچ جاتے ہیں. پاکستان کا پرچم تیار ہوتا ہے. لڑکوں کے گلے میں رنگ برنگی چادریں جو بھنورے، مچھر اور بھڑ خاص طور پر بالدار سنڈی کے حملے کی صورت میں ان سے بچاو کا ہتھیار بھی ہے اور ہنگامی صورتحال میں کارگر بھی , کچھ کے ہاتھوں میں پولیتھین بیگز میں خشک میوہ اور ابلے مٹر کے دانے ہیں. ایک ہاتھ سے چھوٹے بھائی کا ہاتھ تھامے. تو دوسری طرف جن کا کوئی بڑا بھائی نہیں مائیں انہیں پڑوس کے چچا کے ہاتھ تھما دیتی ہیں. یوں جب سب کی حاضری ہو چکتی ہے تو دھیرے سے یہ پارٹی سڑک کے دورویہ لائینوں میں منزل اور بڑھتی ہے. شروع شروع میں نعرہ تکبیر, رسالت اور حیدری کے نعروں سے غل مچاتے ہیں پھر آگے بڑھتے بڑھتے سینے پر گولی کھائیں گے پاکستان بنائیں گے کے نعروں تک بات چلی جاتی ہے. یہ الگ بحث ہے کہ پاکستان کو معرض وجود میں آئے ستر سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہوتا ہے. اس کے بعد پارٹی یکے بعد دیگرے ہر ہر محلے کے چوپال پر ذرا سستاتی ہیں. متعلقہ محلے کے لڑکوں کے لئے پن چکی نہر پر چل رہی پن چکی کی نظم پر ڈھول اور تالیوں کی ردھم پیش کی جاتی ہے اس پر رقص پیش کیا جاتا ہے. ناچنے والوں کے ہاتھوں, کانوں اور جیبوں میں ایک دو روپیہ کے نوٹ بھر جاتے ہیں, مائیں اساتذہ کے لئے خشک میوہ جات کی بخششیں پیش کرتی ہیں. آگے بڑھ کر دوسرے محلے کے شروع میں ہی سر راہ چھوٹے بڑوں کے استقبالیہ گروہ چشم براہ موجود ہوتے ہیں. تالیوں کی گونج پر پارٹی آگے کو بڑھتی ہے اور پھر وہاں چوپال پر اس محلے کے منچلے مقابلے کے طور بہتر مظاہرہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں. وہاں بھی نیاز و تبرکات بٹتی ہیں. کچھ زندہ دل بڑے بزرگ دائرے میں کود کر خوب ناچ لیتے ہیں. بچوں کو شاباشیاں ملتی ہیں. چھوٹے بچوں کی مائیں ان کے دیکھ بھال کی خاطرکشاں کشاں پارٹی کے پیچھے پیچھے سارے محلوں تک گھوم آتی ہیں. یوں پارٹی جب دھیرے سے گاوں سے باہر سیرگاہ کی طرف بڑھتی ہے تو بڑی کلاس کے لڑکے ٹیپ ریکارڈرز میں لگی خشک بیٹریاں سیدھی کرنی شروع کرتے ہیں جو چارچ کھانے کے ڈر سے الٹی لگا رکھی ہیں. اب ٹیپ ریکارڈر پر ہندی گانے بجنے شروع ہوتے ہیں جسکا سلسلہ بلا توقف کھانے کے وقفے تک جاری رہتا ہے. کچھ لڑکے گروپ تصاویر نکالنے میں مصروف ہے. شور و غل اور گہما گہمی کے ساتھ ساتھ رنگ برنگے کپڑوں کی چمک دمک سے یہ سیر گاہ کسی پری زار کا سا منظر پیش کرنے لگتی ہے. کچھ لڑکے تتلیوں کے پیچھے بھاگ رہے ہیں. کچھ نیلے پیلے پھول چن رہے ہیں.کچھ گوبر کی گلی سڑی ڈھلیوں کو چن رہے ہیں جس کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ زخم پر لگانے سے زخم جلدی بھر جاتے ہیں. کمیروں کی فلمیں ختم ہونے کے ڈر سے دوسرے گروپ کے لڑکوں کی تصویریں اتارنے میں احتیاط برتی جارہی ہے. یوں دوپہر کے قریب کھانا لگ جاتا ہے. چاول اور گوشت اور ساتھ میں پیاز کی چٹنی اور آخر الطعام مشروب معروف نمکین چائے پک جاتی ہے. ہر گروپ کھانا کھا لیتے ہیں. اساتذہ کو ہر گروپ کی طرف سے بڑے لڑکے کھانے پر دعوت دیتے ہیں. کھانا کھا لینے کے بعد واپسی کا سفر شروع ہونے سے ذرا قبل رقص و سرود کی دھماکہ دار محفل ہوتی ہے. پھر بڑی شرافت سے پن چکی کا دھن گاتے بجاتے الٹے قدموں لوٹ پڑتے ہیں. گیلی سبزہ زار پر مچھروں کی بہتات ہے اور ہر کوئی ہرے پتوں کی ڈنڈیاں ہلا ہلا کر مچھر بھگا رہے ہیں. خوبانی کے کچے پھل اتارنے والے بالدار سنڈی کے خطرے سے بے پرواہ ہو کر درختوں پر چڑھ رہے ہیں. گلے میں ڈھلی چادر کے پس پردہ فلسفے کا بھید تب کھلتا ہے جب بغیر چادر لئے چند لڑکوں کے گلے اور آنکھیں مچھر لڑ کر سوجھ جاتی ہیں. یا پھر بالدار سنڈی کے ذہر سے خارش ہونے لگتی ہے. گھر پہنچ کر مائیں سوڈا اور نمک ملے پانی سے انہیں مالش کرتی ہے. یوں کھلے کھلے چہروں کے ساتھ سکول کے بچے واپس گھروں کو لوٹتے ہیں. اور کئی دنوں تک اسی بات کا چرچا رہتا ہے.......
تحریر باقر حاجی (2015)
x