"سحر فردا کی شام امروز" ۔۔۔!!


شیخ غلام حسین سحر ایک بہادر انسان, ایک شجاع لشکری تھا جو جہاد اکبر کے میدانوں میں بے تیغ لڑ رہا تھا۔
ایک ایسا انسان جس کا آپ ہی دوست اور آپ ہی دشمن رہا۔ ملمع کی ترقی اور عظمت انسانی کی کھوکھلی اور ڈھونگ رچاتی ترقی میں ایک زمانہ ساز، کارساز، تجربہ کار اور سب سے بڑھ کر بھلا کا صابر اور شاکر شخص تھا۔ اس کی بھوری اور قدرے زیادہ بھوری رنگت میں سے پھوٹتی نور کی نیر و تاباں کرنوں کا خود سراپا سحر تھا۔ زندگی آج انسان کو تگنی کیا چوگنی کا ناچ نچوا رہی ہے ایسے کوئی مرد قلندر جو زندگی کو فکر اور عمل کی چکی کے دو بھاری بھر کم پاٹوں تلے پیس پیس کر فنا کر کے بقائے نو، فروع تازہ اور امید آئند دیتے رہے، وہ ایک تنہا شخصیت شیخ سحر کی تھی۔ ان کا نایاب و کمیاب رہنے میں ان کی ریاضت، ان کی طرز زندگی کی پستی میں معرفت، مادیات کے سیل رواں کے برخلاف تیراکی میں ان کا مجاھدہ، ہنسی میں لان شکرتم لازیدنکم کا خلاصہ، حدود قیود سےاستشنی میں عالمگیریت، سیر و سلوک میں لنھدینہم ثبلا کی زندہ مثال، فقر میں شہنشاہی اور ترک تعیش میں آفاقیت پنہاں تھیں۔

فکر و نظر میں شیخ، کردار و عمل میں غلام حسین اور تاثیر و امید میں سحر، یعنی اسم بامسمی، الفاظ و معانی کا باہم پیکر تصور، تصویر، لفظ اور معانی میں ایسا تال میل، گویا کسی مصور کامل کا کمال شاہکار خود انہی کے وجود سے بڑھ کر کوئی نہیں ہو سکتا تھا۔
لب لباب زندگی اور دنیا کی بے ثباتی پر ان کے افکار کو انہی کی نظروں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ پتھریلی رنگت کی چوٹی پر موجود دو چشمے جن سے پھوٹتے سیل رواں ایک جانب عیش و نشاط کے ریگزاروں کو مجذوب و سیراب کرکے تصوف و عرفاں کے گلستان کھلا دیتے ہیں تو دوسری جانب دنیا و مافیہا کی بھول بھلیوں سے گزر کر خود شناسی اور حقیقت دنیا کے نہاں خانوں تک اتر جاتے ہیں۔ ایسا درویش جو بنا زاد و توشہ سفر پر نکل پڑتے تھے اور جاننے والوں نے انہیں پاکستان کے کئی شہروں میں دیکھا مگر شیخ سحر کو بیرون ممالک میں کسی نے فقط اس لئے نہیں دیکھا کہ وہ انہیں نہیں جانتے تھے وگرنہ ان کے سفر، ٹھکانے اور منازل کا حال کسی کو کیا معلوم۔ دنیا کی دنیاوں سے یوں آشنا تھے کہ گھر گھر کا حال بتاتے تھے۔ چہار دانگ عالم کا جغرافیہ یوں ازبر تھا کہ جیسے دوربین لئے لب بام بیٹھے زیر نظر منظر کو دیکھ دیکھ کر بتلا رہے ہوں، مگر ناپ تول اور حساب کتاب میں بھی ان کا کمال لاجواب تھا۔ گویا، گوگل ارتھ کا چلتا پھرتا اور گفتگو کرتا ورژن تھا۔ تاریخ و تہذیب اور ذبان و ادب کے خدو خال یوں بیان فرماتے تھے کہ جیسے کسی معیاری تعلیمی ادارے سے فارغ التحصیل ہو۔ چشم حسود کو شرمندہ کرتی ان کی نیم کش آنکھوں کا کمال تھا کہ انہیں دنیا بہت چھوٹی نظر آتی ہے۔ آشوب چشم کا شائبہ ہوتی حالت ان کی نیم باز آنکھوں میں فقط حقیقت کی گنجائش پیدا کر دیتی تھیں۔ ان کی معرفت سے منور آنکھیں حقیقت سے سوا کچھ نہ دیکھتی تھیں۔ دل کے ایسے دھنی کہ ان کی بصارت پر بینائی کو رشک آتا تھا۔ گویا دنیا والوں کو ان کی نگاہ بینا بھی باہر سے اندر جھانگتی دکھائی دیتی تھیں اور بعینہ اس کا عکس آپ کی طبعیت میں رچ بس کر دل و نگاہ کو مخزن اخلاص بنا کر خوش خلقی اور عاجزی کا پیکر بنے نظر آتے تھے۔ محاسن اخلاص آپ کی سوچ و فکر میں گھل مل کر شعور سے پھوٹتے اشعار سے چھلک پڑتے تھے۔ محاسن ادب اور کمال ذباندانی سے آپ کے سادہ اشعار بھی اہل فکر کے لئے عمیق گہرائیوں میں غوطہ ذن کیا کرتے تھے۔ عین ممکن ہے اس کے درپردہ بھی اعلی حضرت کا کوئی شگری فارمولا کارفرما ہو جو ان کی مزاحمت دنیا، موت سے بے خوفی اور معراج انسانیت پر کستی پھبتیوں، اشاروں کنایوں اور رواں رواں بیان کی کاٹ میں نظر آتی ہے۔
انسان کی ساری تگ و دو زندگی، آسائش اور حتی المقدور طوالت عمری سے عبارت ہے۔ انسان کی ساری تدبیریں، دوا دارو اور احتیاط و ہوشیاری موت سے ہر ممکن دوری سے معنون ہیں مگر جو شراب زندگی کو بدمستی اور غمخواری کی بجائے اسے گھن کھا کر قے لانے والی شے کہہ کر دامن چھڑاتا پھرے وہ اپنے آپ نہ صرف موت کو دعوت دیتا ہے بلکہ اس کو بہانے تراش تراش کر دیتا ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ موت کو خبردار کرتا ہے کہ وقت قضا جب وہ اسے بلا لے تو چلی آنے کے لئے پابہ رکاب رہے۔
شیخ سحر انسانیت کا وہ پنہاں راز تھا جسے بھی آشکار ہونا تھا، بلتی زبان و ادب اور خاص کر سرزمین بلتستان کی بدنصیبی ہے کہ تہذیب و ثقافت اور ذبان و ادب کی روز افزوں بدلتی صورتحال میں ایک مینارہ رشد و ہدایت، ایک فطرت شناس استاد اور ایک نبض شناس طبیب کہ جس سے ابھی ایک زمانہ مستفید ہونا تھا مگر وہ عالم و فاضل شخصیت راہ عدم سدھار چلا گویا بقول شاعر؛
لو چل دئیے وہ ہم کو تسلی دیئے بغیر
ایک چاند چھپ گیا ہے، اجھالا کئے بغیر
شیخ سحر نوع انسانی اور اہل فکر کو یہ پیغام دے کر گیا کہ انا مع العسر یسرا کا مطلب دنیا کی تنگی اور سختیوں کو تحمل اور عاجزی سے گزارنا ہے تاکہ ابدی زندگی کی آسانیاں آسانی سے سمیٹ لی جائے۔ انہوں نے عملا توکل کا وہ قابل تقلید مظاہرہ پیش کیا ہے جس کی جسارت فی زمانہ اس انا پسندی، مفاد پرستی اور مصلحت کی بھینٹ چڑھی دنیا میں شعور اور عمومی خصائل کے ساتھ جینے والا کوئی شخص شاید ہی کر پائے گا۔ شیخ سحر گفتار میں فکر انگیز، کردار میں رشک آمیز، فن میں صنعت کار، عمل میں تجربہ کار، سری صوفی، جہری درویش اور شخصیت میں سحر انگیزی کے حامل تھے۔
اس سحر کی اب شام آگئی، یہ سحر جو کبھی فردا تھی کبھی امروز وہ حقیقت اب ایک روز روشن بن کر ایک نمائیاں روپ دھار گئی۔
بلتستان میں زبان و ادب کا یہ زمانہ انہی کا ہے اور ان کے ہم عصر ادبا و دانشوران، ان کا حلقہ احباب اور ہم جیسے ان کے مداحوں کی یہ خوش قسمتی ہے کہ ہم ان کے دور میں جی رہے ہیں۔
میری دعا یہ ہے کہ سحر کی ہمیں بھی دعا لگے۔ آمین
x