اب پچھتائے کیا ہوت ۔۔۔۔!!

https://www.safestgatetocontent.com/zk99auq5z9?key=2fa2ada12eac55b4af49b09da6131cd3


خطہ جنت نظیر بلتستان میں خوبانی، سیب، ناشپاتی، بادام اور چیری کے درختوں پر پھول کھل چکے ہیں۔ سفید، بنفشی، قرمزی اور نارنجی رنگوں کے پھولوں سے لدے درختوں کے جھنڈ نظروں کو خیرہ کر دیتے ہیں۔ کیا ہی بات ہوتی دیگر فواکہ کی مانند شہتوت اور اخروٹ کے پھول کھلتے، ان دیو قامت درختوں پر پھول کھلنے کا منظر ہی کچھ اور ہوتا مگر قدرت نے ان جسیم درختوں کا حسن ان کی ہیبت اور وسعت میں چھپا رکھا ہے۔ عین ممکن ہے کہ ان درختوں کے پھیلاو کی وجہ سے عمل خودزیرگی و پار زیرگی میں وقت لگتا۔ یا پھر ان پھولوں سے پولن چن کر دوسرے پھولوں تک پہنچانے پر مامور بھنوروں، بھڑوں، تتلیوں اور حشرات الارض سے بن نہ پڑتا۔ پھر بھی، ان کے پھول نما حصے جو دھیرے دھیرے پھل پیدا کرتے ہیں وہ بھی سبز رنگ کے ہی ہوتے ہیں جو کہ عموما فطری رنگ ہونے کی وجہ سے نظروں میں نہیں آتی۔
یہی پھول کھلنے کے دن ہوتے تھے جب گھروں، خاص کر کچے مکانوں کے مراغ، چھجوں اور منڈیروں تلے گھونسلے بنانے والی گھریلو چڑیاں گرم علاقوں سے بلتستان کی جانب لوٹ آتی تھیں۔ جب ہم چھوٹے تھے، ان دنوں میں ان کے غول کے غول نظر آتے تھے۔ جب کسی گھنے درخت سے یکدم پھڑپھڑاتی اڑ جاتی تھی تو ایسی گرج دار آواز آتی تھی کہ جیسے کوئی دیوار گر گئی ہو۔ ان دیسی چڑیوں کی پہچان یہ تھی کہ چڑا کا سر کالا، آنکھوں کے گرد سفید حلقہ اور سینے کے ساتھ پروں کے درمیان بھی سفید پر موجود ہوتے تھے جبکہ چڑیا کا رنگ بورا اور سارا جسم نسبتا خاکی رنگت کا ہوتا تھا۔ بچے غلیل سے گلی محلوں میں مکانوں کے ساتھ باغیچوں اور درختوں پر بیٹھی چڑیوں کا شکار کیا کرتے تھے۔ نشانہ خطا ہو کر کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹنے کے بھی واقعات پیش آتے تھے۔ باغیچوں میں زمین کے اوپر ریشمی دھاگوں سے پھندے بنوا کر بھی پکڑے جاتے تھے۔ اس کے علاوہ ٹوکریوں کو الٹا رکھ کر اس کے نیچے دانے پھینک کر دو طرح کے پھاند بنوائے جاتے تھے ایک میں تنکوں کو مخصوص ترتیب سے بچھا کر خودکار پھاند بنواتے تھے کہ جب چڑیا جیسے ہی تنکوں پر پاوں رکھ دیتی ٹوکری خود دھک سے نیچے بیٹھ جاتی، مضبوط پھاند کے لئے ٹوکری کے اوپر ایک پتھر بھی رکھا جاتا تھا۔ اس کی سادہ قسم میں فقط ایک چھوٹی ڈنڈی کے سہارے ٹوکری کو دانوں پر الٹا رکھ دیتے تھے اور اسی ڈنڈی کے ساتھ دھاکہ باندھ کر پھندیا خود چھپ کر دیکھ رہے ہوتے تھے جسیے ہی اسے یہ تسلی ہو جاتی کہ چڑیے عین ٹوکری کے وسط میں اندر تک جاچکی ہے فورا سے رسی کھینچ کر ٹوکری گرادیتے اور پھر اندر چڑیا پکڑ پکڑ کر نکال لیتے۔ چڑیے بھی اب اس رسم سر فروشی سے اس قدر آشنا ہوچکی تھیں کہ یک بہ یک اندر نہیں جاتی تھی۔ وہ کونے کناروں پر رہ کر دانے چکنے کی کوشش کرتی کبھی ٹوکری کے اوپر چڑتی، نیچے اترتی اور پوری طرح اطمینان کر لیتی تھی کہ کہیں ٹوکری گرنے والی تو نہیں۔ جب اسے کسی طرح یقین ہوجاتا کہ ٹوکری محفوظ ہے تب ہی وہ اندر گھس کر دانا دنکا چکنے کی جسارت کرتی مگر وہ دانستہ نادانستہ اس چال میں پھنس کر رہتی۔
جب چڑیوں کی بہتات تھیں تب چیل کوے اور عقاب بھی نظر آتے تھے۔ چیل کا چڑیوں کے غول پر چھپٹنے کا اپنا ایک رنگ ہوتا تھا۔ مگر اب چڑیاں ان علاقوں سے روٹھ چکی ہیں۔
شکار کا ذوق بچوں میں اب بھی ہے۔ مگر دکانوں میں غلیل نہیں ملتے، اب شکار کے نت نئے طریقے متعارف ہو چکے ہیں۔ سادہ چالوں میں اب مکھی بھی نہیں پھنستی اور تو اور اب بڑی بی مکڑے کی خوش آمد کو بھی خوب سمجھتی ہے۔ اب کہ فصلوں میں کچھ جان نہیں، پیداوار اب ناقص ہو چکی ہیں اور فطری تقاضوں کی جگہ مصنوعی زرخیز آفرین ادویہ و کیمیاء مستعمل ہیں جو کہ فصل تو فصل نسل کو بھی بربار کر رہی ہے۔ چڑیوں کو شکایت ہے کہ اب تو یہ محاورہ بھی بدل ڈالے تو بہتر ہوگا۔ اب پچھتائے کیا ہوت، جب چڑیاں چک گئیں کھیت، یہ محاورہ اب یوں پڑھا لکھا اور سمجھا جائے تو بہتر ہے۔۔!
"اب پچھتائے کیا ہوت، بابو ہوئے کسان، مک گئے کھیت ۔۔۔!!
چڑیوں کی ان گنت قسمیں ہوتی تھیں، بلتستان میں عام انہی چڑیوں کو نسبیو، سرخ رنگت والی کو عوسے بیو، کالے نیلے رنگ والی سترگا بیو، بھورے اور قدرے بڑے کو سارسنگبیو، دریا کنارے پھدکتی پھرتی لمبی دم والی کو چھوزبیت، بالکل چھوٹی سی بھوری چڑیا کو چھقسہ بیو، سرخ رنگ سینہ والی بڑنگماربیو، پہاڑیوں پر پھرنے والی پھرتیلی پتلی چڑیا ژیریبی، برفباری کی وجہ سے بلندی سے نشیبی علاقوں کی طرف آنے والی ابابیل نما چڑیا کوکولنگ بی کہلاتی تھیں مگر مدت ہوئی ان میں سے کئی نسلوں کو دیکھے ہوئے، اب کہیں نظر نہیں اتی۔
x