- Get link
- X
- Other Apps
کام کی جتنی بڑی قسمیں ہیں اس سے کہیں زیادہ کام کرنے کے طریقے ہوتے ہیں، البتہ جتنے بھی کام اور ان کے طریقے ہیں ان میں ضابطہ اخلاق کو بڑی مرکزیت حاصل ہے۔ کام کوئی بھی ہو، کاروبار ہی ہوتا ہے، مگر یہ کاروبار رسمی تجارت میں تب شامل ہو جاتا ہے جب منافع تاجر اور کاروبار کی وقتی ضروریات سے بڑھ جانے کے باوجود بھی جمع کرتا رہے۔ ایسے کاروبار منافع کے لئے نہیں بلکہ ثروت و امارت کی خاطر اپنائے جاتے ہیں جس کا تعلق زندگی سے نہیں بلکہ سماج سے ہوتا ہے۔ زندگی اپنی ضرورتیں اپنی پیدائش کے ساتھ ہی ایک مقررہ جدول کے مطابق لے کر آتی ہے یہی ضرورتیں اسے تمام ہونے تک درکار رہتی ہیں جبکہ سماج شرق و غرب، طول و عرض، دین و دنیا اور سماج و ثقافت کے اعتبار سے اپنی ضرورتیں بدلتا رہتا ہے۔ عجیب بات تو یہ ہے کہ سماج میں ضرورتوں کا بدلاو تاجر پیدا کرتے ہیں اور اس بدلاو کو سماج میں متمدن و معتمد رہن سہن کی علامت کے طور پر بھی سماج خود پیش کرتا ہے اور اشرافیہ اسے تب تک زیب داستاں بنائے رکھتا ہے جب تک متوسط طبقہ بری طرح اس کے پیچھے نہ لگ جائے، اور جیسے ہی یہ ان کے مقدور و دسترس میں آجا تا ہے وہ پینترا بدل دیتا ہے۔ تاجر طریقے سے یہ بھی عاجر و صارف کو یہ بتاتا ہے کہ اس کے لئے کیا اچھا ہے مگر حقیقت میں وہ صرف اور صرف تاجر کے لئے اچھا ہوتا ہے۔
کاروبار اور خسارہ، دو ایسی تلواریں ہیں جو ایک نیام میں بالکل نہیں رہ سکتیں۔ مگر کاروبار میں سوجھ بوجھ کا خسارہ وہ نفع ہوتا ہے جو ضابطہ اخلاق کی پاسداری کی خاطر سری طور پر اپنے مقاصد بیان نہیں کرتا۔ چونکہ یہ خسارہ سماج اور زندگی سے مطلق تعلق نہیں رکھتا اس لئے رسمی سماجی حدود و قیود اور ضابطہ حیات ایسے کاروبار کو قبولنے پر قادر نہیں ہوتے۔
کسی گاوں میں ایک بزرگ چھوٹی سی ہٹی چلاتا تھا۔ اس میں وہ بمشکل خوردو نوش اور روزمرہ ضروریات کی دو چار چیزیں بیچنے کے لئے رکھا کرتا تھا۔ اس کے پاس گاہک بھی اپنے سے آتے تھے۔ شرفاء بڑی دکانوں کی طرف جاتے تھے، بلکہ وہ اپنے کھانے پینے کی چیزوں کا بھاو تو اپنے نوکروں سے پوچھ لیتے تھے۔ انہیں صرف سامان عیش ونشاط کی قیمت کا پتہ رہتا تھا۔ ایسے میں اس بزرگ کی دکان پر دو چند ایسے لونڈے آتے تھے جن کے پاس کھوٹے روکڑے ہوتے تھے۔ یہ روکڑے عہد رفتہ میں کسی زمانے کے تھے مگر رائج الوقت نہ تھے۔ وہ بزرگ ان کو ان سکوں کے عوض مطلوبہ سامان مہیا کر جاتے تھے۔ دیکھتے ہی دیکھتے لوگوں میں یہ شوشا عام ہوگئی کہ کوئی سرپھیرا کھوٹے روکڑوں کے عوض بھی مال بیچتا ہے۔ اول اول تو لوگ ان پر ہنستے رہے مگر چند خدا والے جا کر ان کو سمجھانے لگے۔
اعلی حضرت یہ جن پیسوں میں مال بیچ رہے ہیں وہ کھوٹے ہیں۔ مگر وہ بزرگ تھا کہ ہنستا جاتا تھا۔ یوں جب سب کو یہ گماں ہوا کہ یہ سدھرنے والا نہیں اور ایک دن یہ اپنی دکان بند کر بیٹھے گا۔ کسی عالم نے جا کر ان سے بات کی کہ جناب یہ خسارہ آپ کے کاروبار کو لے ڈوبے گا سارا کا سارا قصبہ آپ کو بیوقوف سمجھتا ہے، کیوں ان مشتنڈوں کے دھوکے میں آتے ہو، یہ کھوٹے سکے نہ لیا کریں۔
اب کے بار اس بزرگ نے بولا ۔۔۔!
"جب مجھے معلوم ہے کہ لونڈے بہت چالاک ہیں، یہ کھوٹے روکڑے چلانے کے لئے سادہ لوح تاجروں کے درپے رہیں گے، اور کیا معلوم کہ کب کوئی سادہ بیوپاری ان کے دھوکے میں آکر اپنا خسارہ کر بیٹھے، جب ان کے پاس کھوٹے سکے نہیں رہیں گے دھوکہ دینے کا کوئی امکان باقی نہیں رہے گا۔ میں اپنا خسارہ نہیں کر رہا بلکہ جان بوجھ کر کسی ایسے کا خسارہ اپنے گلے لے رہا ہوں جو انجانے میں اپنا خسارہ نہ کر بیٹھے" ۔۔۔!
ایسے کاروبار تو کہیں نہیں ہوتے مگر ایسے بیوپاری کہیں نہ کہیں ضرور موجود ہوتے ہیں۔ روکڑے کمانے والے غلے تو بھر لیتے ہیں مگر ان کا دل خالی خالی رہ جاتا ہے۔۔۔!!
- Get link
- X
- Other Apps