کنعان کے بھیڑیے ۔۔۔!

یعقوب پیغمبر کو اللہ نے بارہ بیٹے عطا کئے، بارہ بیٹوں کو ایک برگزیدہ باپ جو اعلی و ارفعہ درجے پر فائز تھے، یعقوب علی نبینا علیہ السلام کو ایسا خوبرو بیٹا عطا ہوا، جسے عالم رویا میں شمس سے تعبیر کیا، جو دنیا میں حسن و جمال کا فروزاں استعارہ بن گیا، یوں ان گیارہ بھائیوں کو بھی ایک خوبصورت بھائی عطا ہوا، وہ بھی سب سے چھوٹا، سب بھائیوں کے لئے قابل توجہ، قابل رحم اور قابل شفقت۔۔۔!
یوسف نے ایک خواب دیکھا کہ گیارہ ستارے ایک سورج کو سجدہ کر رہے ہیں۔ یوسف نے اس خواب کی تعبیر اپنے والد گرامی سے دریافت کیا۔ یقینا یوسف اور اس کے بھائی اپنے والد کے نبی ہونے پر ایمان رکھتے تھے، جیسے وہ ان کی ہر بات پر دل سے یقین کر لیتے تھے اسی طرح خواب کی سچی تعبیر بتانے پر بھی انہیں کامل بھروسہ تھا۔ گویا ان کی زندگیوں میں یہ کوئی پہلا موقع نہیں تھا جو یعقوب نے اس خواب کی سچی تعبیر بتلانا تھا۔ پس، یوسف نے تعبیر خواب دریافت کی تو والد گرامی نے نہ صرف تعبیر بتلائی بلکہ اسے صیغہ راز میں رکھتے ہوئے دوسرے بھائیوں کو نہ بتلانے کی ترغیب دی۔ یوسف کے لئے یہ حکم نبی، یعنی حکم خدا بھی تھا اور حکم والد بھی جو خدا پر یقین رکھنے والے کے لئے ایک ذمہ داری و فریضہ بھی تھا۔ یعنی یعقوب نے بھی کچھ جان کر ہی اسے دوسروں کو نہ بتلانے کا کہا تھا، جس پر یوسف کو کھرا یقین تو تھا مگر، یعقوب کی ایک بیوی نے یہ ان باپ بیٹوں کی گفتگو سن لی، اور دوسرے بھائیوں پر راز فاش کیا۔
جب دیگر بھائیوں، بشمول یوسف کے سگے بھائی بنیامین کے، کو معلوم پڑا تو انہوں نے اپنے بھائی کے خلاف، خدا کے نبی کے حکم کے خلاف اور خدا کے مشعیت کے خلاف اور ایک چھوٹے اور کمزور انسان کے خلاف ایک اندوہناک منصوبہ ترتیب دیا۔ یوں اپنے باپ سے جھوٹ بول کر بھائی کو ساتھ لے گئے، ایک اندھے کنویں میں پھینک آیا۔ بشمول سگے بھائی کے انہوں نے باپ پر یہ ظاہر کرنے کی ٹھان لی کہ خدا نخواستہ یوسف کو بھیڑیئے کھا گئے۔
عجب یقین ہے، یا یقین کی ایسی عجیب کیفیات کہ خواب کی تعبیر بتلانے والے پر یقین ہے، اس بات پر یقین نہیں کہ وہ دھوکے کو بھانپ لے گا۔ اس بات پر یقین ہے کہ وہ خدا کے نبی ہیں مگر اس بات پر یقین نہیں کہ اسے جھوٹ اور سچ میں تفریق کرنے والا بنا کر بھیجا گیا ہے۔ اس بات پر یقین ہے کہ پیغمبر لوگوں کی ہدایت کے لئے مبعوث ہوتے ہیں مگر اس بات پر یقین نہیں کہ وہ لوگ خود پیغمبر کے گھر والے ہیں اور انہیں ایک باپ کی صورت میں ایک رہنما دستیاب ہے۔
دوسری طرف یعقوب کو یقین ہے کہ یوسف کو خدا نے پیغمبر چن لیا ہے، وہ زندہ رہے گا، وہ مر نہیں سکتا، وہ اکیلا ہے، بے سہارا ہے اور خوفزدہ ہیں۔ دوسری طرف یہ یقین کہ خدا ان کے ساتھ ہے۔ وہ اس کی حفاظت کرے گا۔ مگر صبر بہ رضائے الہی پر ایسے قائم کہ راز سے پردہ نہیں اٹھا رہے ہیں۔
یعقوب علی نبینا سچائی کو ثابت کرنے کے لئے کنعان کے بھیڑیوں کو بلاتا ہے، سارے بھیڑیے اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ یوسف کو کسی بھی بھیڑیے نے کوئی نقصان نہیں پہنچایا۔ یعنی خونخوار بھیڑیے بھی کچھ جانتے تو تھے پھر وہ کون سا بھیڑیا تھا جس کا ذکر اس کے بھائی کر رہے تھے، کہ جس نے یوسف کو کھا لیا؟
جب کوئی کینہ، حسد، بغض اور عداوت پر اتر آتا ہے تو بھائی، پیغمبر کی اولاد، ایک پیغمبر بنے والے بھائی کے سگے اور ایک چھوٹے بھائی کے گھر کے گیارہ بڑے، دنیا کے سب سے حسین و جمیل بھائی کے بڑے بھائی، اپنے ہی ضعیف باپ کے نورعین، جگر گوشہ اور وارث اعلی کو اندھے کنویں میں پھیکنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ تب خونی رشتے، پیغمبر کے زیر سایہ پلنے والے پیغمبر زادے اور زندہ معجزات کے امین لوگ بھی سچائی سے آنکھیں پھیر لیتے ہیں۔
اپنے اردگرد لوگوں کے رویوں سے بددل مت ہویئے، حق کو پہچانتے ہو تو خاطر جمع رکھیئے، لوگوں کے رویے خدا کے ارادے نہیں بدل سکتے، پس اللہ تبارک و تعالی سے مرتبہ، معرفت، امارت کے ساتھ استقلال اور یقین کامل بھی مانگ لیجیئے۔ صبر کیجیئے، کامیابی خود چل کر آتی ہے، بھلے لولی لنگڑی ہی کیوں نہ ہو، یہ کسی کے کندھے پر سوار ہو کر نہیں آتی، یقین کر لو، بے شک صبر کا کوئی نعم البدل نہیں۔!!!
x