- Get link
- X
- Other Apps
مولوی، خطباء اور علماء کب زیر عتاب نہیں رہے، یہ ہی کیا، ہر چند کہ جو ناصح ہوا کسی کو ایک آنکھ نہ بھایا۔ آج کل تو لوگ کہے ہیں بھئیا سب کچھ کیجیئے بس ایک نصیحت نہ کیجئیے۔ ان لوگوں کو یہ تو معلوم ہے کہ جو مولوی یا مشائخ کہتے ہیں ان باتوں کے کہنے کے وہ کوالیفائٹ نہیں ہیں۔ ایسے میں دو چند یہ صلاح دیتے ہیں کہ ایسے معاملات کورٹ کچہریوں میں سلجھائے جائیں جبکہ دو چند آزادی رائے، آزادی عقیدہ و نظریہ اور انسانیت سے متصادم گردان کر انہیں یکسر مسترد کر دیتے ہیں۔ ستم ظریفی یہ کہ ان کو دین سے بیر ہے مگر لا دین بھی نہیں۔ پہلے اس نظام سے نکلنے کی ہمت تو کریں، وگرنہ عین منافقت ہے۔ ایک مولوی، کسی ایک شیخ کی بات کو لے کر پورے دین، الوہیت، آفاقی نظام کو اس طرح لتھاڑتے ہیں کہ بس۔ جبکہ آفاقی نظریات، الوہیت، شرح و تفاسیر سے پیدل خود اس فلسفے پر فتوی دینے میں کتنے کوالیفائیڈ ہیں یہ بھولے سے بھی نہ سوچے۔ فیشن یہ ہے کہ ایک جملے میں سب لپیٹ لیتے ہیں۔ اس میں ہر چند برائی نہیں کہ سمجھے بنا کسی عقیدے یا نظریے کو فالو کیونکر کرے۔ مگر اس سطح پر سوچنے والے کی ابتر حالت یہ ہے کہ وہ من میں مطمعن بھی نہیں اور نظریے یا عقیدے سے جڑے بھی ہوتے ہیں وہ مانتے ہیں کہ سچائی فقط ایک حد تک سچائی ہے بلکہ معرفت حقیقت کی پرتو ہے جو حقیقت سے حق شناسی تک لے جاتی ہے۔ جیسے جیسے عقدے کھلتے جاتے ہیں حقیقت بدلتی محسوس ہوتی ہے، حالانکہ حقیقت بدلتی نہیں بلکہ اس میں وسعت، تنوع یا مختلف مطمع نظر پیدا ہوتا رہتا ہے۔ ہر اس شخص کے لئے جس نے کوئی چیز نہیں دیکھی اور اس چیز کو بتانے والے کے عین مطابق قبولنے کے کئی طریقے ہیں۔
اولذکر یہ کہ بنانے والا خود بتائے۔ یا کوئی وہ بتائے جس نے بنانے والے سے اس چیز کا علم حاصل کیا ہو، یا وہ جس نے اس سے سیکھا ہو، یا پھر کوئی وہ جو آپ سے بہتر جاننے والا ہے اور وہ اتنا معتبر ہو کہ اس کے بیان پر شک نہ گزر سکتا ہو۔
دوسرا یہ کہ اتنی دقیق سعی کی جائے کہ دلائل اور شواہد کی روشنی میں اس کو ویسا ثابت کر سکے جیسا بتلانے والا بتا رہا ہے۔ مگر یاد رکھے، کہ اس طریقے میں نتیجہ نکالنا سابقہ تجربات یا مشاہدات سے لئے حقائق کے تناظر میں تمثیل یا منطقی ربط سے جڑا ہوتا ہے اور ہر سعی کا نتیجہ اسی وقت کے لئے کسی حد تک سچا مگر مزید بہتری کی گنجائش کے ساتھ موجود ہوتا ہے۔ اس نظام میں حقائق کو ممکنات کہتے ہیں۔
تیسرا طریقہ ہے روحانیت کا، اس کا تعلق دین سے ہے۔ دین میں ایک نظام ہے اس نظام میں رو کد کی گنجائش نہیں، تشریح، توضیح اور اجتہاد بھی بنیادی نظام کی روح سے متصادم نہیں ہو سکتی۔ یہاں ایک نظام وضع ہے۔ اس نظام کے ذریعے کچھ اس طریقے سے علم حاصل کی جاتی ہے کہ اس نظام میں رہ کر ناکام رہنے والوں اورنظام سے باہر موجود کسی کو بھی اس کی بھنک تک نہیں پڑتی۔ اس میں ہر مساعی کا ربط براہ راست انفرادی قلب و گمان میں ہوتا ہے۔ اس نظام پر اب روایتی تعلیم یا دنیوی تعلیم اتنا غالب آچکی ہے کہ اب عقل میں سمانے والی باتوں سے ہٹ کر کسی بھی چیز کو یہ جدید نظام رد کر دیتا ہے۔ اور روحانیت کو فقط وہم و گمان تصور کرتے ہیں علم نہیں۔
نکتہ چینی اور تنقید کا دائرہ اس قدر بڑھ چکا ہے کہ اب اختلاف اور تنقید میں فرق مٹ چکا ہے۔ شعبہ جیسا بھی ہو، اس شعبے سے منسلک لوگوں میں فطری نفسیاتی، جسمانی، عقلی یا علمی تفریق و تفاوت عین فطری ہے۔ مگر کلاس میں کسی بچے کی ناکامی پر اس کے درپردہ کسی ایک محرک کو لے کر ڈھنڈورا پیٹنا جہاں کم عقلی ہے وہاں سوچ بچار سے جان خلاصی کی مثال ہے۔ سوچنے والے سطحی تجزیے نہیں کرتے وہ تحقیق کے خارزار میں اتر جاتے ہین۔ اور اس کے محرکات کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔
دوسری جانب جو لڑکے اسی کلاس سے اچھے نمبروں سے کامیاب ہوتے ہیں اس کا کسی کو علم ہی نہیں، اس پوزیشن ہولڈر کے درپردہ محنت، تعاون اور ماحول کسی کو دیکھائی کہاں دیتا ہے۔
کچھ دوست خود صحافی بھی ہیں اور خبرنگاری کے بنیادی اصول سے واقف نہیں، اپنی بات کے آگے عوام ڈال کر اپنی من گھڑت مطالبے کو وزن دینے کی کوشش کرتی ہے۔ ایسے میں دنیا میں ہر خبر ہر شخص، علاقہ، رنگ و نسل، عقائد و نظریہ اور حدود و جغرافیہ کے لئے یکساں اہم نہیں ہوتی مگر دنیا کے کسی بھی کونے میں ہونے والے منفی واقعے کو لے آتے ہیں اور اس پر تبصرے میں آستینیں چڑھا کر بھڑ پڑتے ہیں۔ خبر مقصد، دلچسپی، ذاتی اصول، جغرافیہ اور متاثر ہونے والوں کی تعداد اور اقسام کو دیکھے بنا بنانا اور اس تبصرہ کرنا محض وقت کا ضیاں ہے۔
اگر منفی بات ہے اور اس کا اثر اگر کسی ایک یا زیادہ برادری کے لئے نہ ہو تو یہ خبر کمزور خبر کھلائے گی جبکہ جن کی دلچسپی کے عناصر جس خبر میں زیادہ ہو وہ خبر اس وقت، اس علاقہ اور ان افراد کے لئے مختص ہونی چاہیئے۔
منفی خبروں میں رہنے والوں کو یہ تو معلوم ہے کہ اس کی مانگ زیادہ ہے لیکن وہ اس حقیقت سے نابلد ہیں۔۔اسی طرح ہر شعبے کا یہی حال ہے۔
میں تعمیری تنقید کے حق میں ہوں، اسے پسند بھی کرتا ہوں مگر یہ یک طرفہ نہیں، اس میں تنقید کنندہ کی تعلیم ، ذاتی عقیدہ و نظریہ اور علاقائیت اور دیگر قدرتی ذاتی اثر و نفوذ سے اس تنقید کو پاک رکھ کر بات کرنا اور برداشت کا حوصلہ رکھنا ضروری بھی ہے۔
یاد رکھے دین کوئی چوائس نہیں ایک حقیقت شناسی کا تسلسل ہے۔ اس کے پیروکار سبھی کسی نہ کسی سطح پر کمزور ہوتے ہی ہیں، کیونکہ وہ انسان ہے اور یہ فطری بات ہے۔ کائنات کا پورا علم مدینتہ العلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یا باب العلم علیہ سلام کے پاس ہی ممکن ہے پھر ان سے جن جن خلفاء، تابعین، مریدین یا دیگر فالورز نے سینہ بسینہ وہ علم و حکمت حاصل کی انہی کے پاس ہی سے پوری معرفت مل سکتی ہے۔ اس کے علاوہ تمام انسان خام خیالی میں زندگہ گزار رہے ہیں۔ لوگ عبادات کو توشہ آخرت سمجھتے ہیں جبکہ اصل توشہ و توانائی تو معمولات میں اخلاق، اصول پسندی اور دادرسی ، خدا ترسی ہے۔ جبکہ عبادات محض شکر گزاری کی خاطر بجا لاتے ہیں کیونکہ عمل سے زیادہ توفیق دینا بڑی بات ہوتی ہے۔ جس نے زندگی دی، عزت دی، دولت دی اور اب اس کی مقدور بھر شگر گزاری ممکن نہیں ہے۔ اس کے احسانات اتنے زیادہ ہے۔ کچھ اجتماعی عبادات نظام معاشرت میں جوڑ، ربط، احساس اور تعمیری اتحاد کے لئے مفید ہیں۔
سبحانک ما عرفناک حق معرفتک، سبحانک ما عبدنا حق عبادتک، سبحانک ما شکرناک حق شکرک، سبحانک ما ذکرناک حق ذکرک۔
بہتر ہے کہ اس فیشن کو ترک کردیں یا پھر ایسے عقائد سے ہی کنارہ کشی کر لیں۔ دین میں کوئی جبر نہیں۔ کسی کے مسلمان نہ ہونے سے دین پر فرق نہیں پڑے گا۔۔!
x
- Get link
- X
- Other Apps