- Get link
- X
- Other Apps
"چھن" بلتی زبان میں کونے کو بولا جاتا ہے، چھنمہ، چھن سے مشتق ہے مطلب "کونے والی"۔ تختی، قلم اور روشنائی کا اردو کے ساتھ یارانہ اتنا مضبوط ثابت ہوا کہ سکولوں میں فرنگی زبان کی آمد کے ساتھ یہ ثقافت بھی اردو میڈئیم کی طرح گم گشتہ و بے نام ہو چلی۔ بلکہ یوں کہے تو بیجا نہ ہوگا کہ اردو کے بعد کوئی بھی میڈئیم خود کو صراحت کے ساتھ میڈئیم ثابت کرنے میں ناکام رہا۔ جب سبق میں سامان طباعت اور صفحہ قرطاس کے علاوہ اسباب تعلیم و تعلم مقامی ہوا کرتے تھے تب بچے بھی دل و دماغ سے مقامی ہی لگتے تھے۔ ان کا تفکر و طرزعمل اندرونی و بیرونی ماحول سے اپنائیت، مطابقت اور مظاہر سے گہرا ربط قائم کرتا تھا، جو من جملہ معاشرتی اقدار و ثقافت سے بے لوث محبت اور قومی ہمیت کو فروغ دینے میں ممد رہتا تھا۔
انہی دنوں مقامی ماہر تعلیم (ایم اے مہدی، ایم اے ایم ایڈ) کی لکھی اردو گرائمر کی کتاب نصاب میں قومی نسب و نسبت کا حبل المعتصم ہوا کرتی تھی۔ اسی کتاب کے اندر لکھے دو چند مضامین میں سے ایک "چھنمہ" بھی تھا۔
چھنمہ ایک پرفضا مقام، تفریح گاہ اور فطری حسن سے مالامال جگہ ہے جو ضلع گنگچھے قدیم گاوں اور باب الضلع موضع کریس کے ماتھے پر واقع ہے۔ وادی کریس خود بھی خوبصورتی میں کسی سے پیچھے نہیں۔ یہاں ریتیلے میدان، چکنی مٹی کے ٹیلے اور لہلہاتے کھیت کھلیان سیاحوں کو دعوت نظارہ دے رہے ہوتے ہیں۔ چھنمہ کریس کے کنارے مگر عین چوٹی پر واقع خوبصورت علاقہ ہے جس کی دلکشی میں چھنمہ کا پرفضا ماحول، پھلدار درختوں کی بہتات، لسی، ستو اور دیسی مکھن سے بنی نمکین چائے شامل ہیں۔ یہ آسائشیں مہمانوں کے مفت ہاتھ آنے باوجود بھی دل بے رحمی کے اسباب نہیں بنتی۔ بلند ترین گلیشئیرز سیاچن کے پسینے سے بننے والا دریائے شیوک وادی کریس کی قدم بوسی کرتا دریائے سندھ میں ملنے یہیں سے نکل پڑتا ہے۔ جھلستی گرمیوں میں چھنمہ کی فضا میں خنکی گاوں کی نشیب سے گزرتا شیوک کا یخ بستہ برفیلہ پانی کے آبر آلود تھپیڑوں کے سبب رہتی ہے۔ جو باد مخالف میں غلطیدہ ٹھاٹھوں کے ساتھ سیدھے اسی طرف نکل پڑتے ہیں۔ وادی چھنمہ میں کئی اقسام کی خوبانی، چیری، شہتوت اور دو چند سیب کے درخت بھی ہیں۔ یہیں سے آپ کریس کی تاریخی شاہکار "کوہل جاہل" کا بھی نظارہ کر سکتے ہیں۔ شراب و آبپاشی کے لئے کشیدہ اس کوہل کی تعمیر اس زمانے کے اعتبار سے اپنے آپ میں ایک شاہکار بھی ہے اور اس زمانے کے جاہلوں کی ہمت کی آج کے عالموں کے لئے للکار تقابل بھی۔ جس زمانے میں ڈھول کی تھاپ اور رقص و سرود میں مسرور لوگوں نے جس عرق ریزی اور مشقت کے ساتھ کارناممکن کو ممکن بنایا ہے آج دولت و امارت کی طاقت بھی ان کے نزدیک شرمسار نظر آتی ہے۔ تاریس سے تھنگ تک کھیت کھلیانوں اور انسانی ضرورت کے لئے یہ نہر خوراک کی نالی کی حیثیت رکھتی ہے۔ گرائمر کی کتاب کے اس مضمون میں لکھا یہ جملہ "جس نے چھنمہ کریس نہیں دیکھا، وہ پیدا ہی نہیں ہوا" اس جگے کو دیکھنے کے بعد مصدقہ و مستند لگتا ہے۔
چھنمہ کے رہائشی زیادہ تر عارضی رہائشی ہوتے ہیں جو موسم گرما میں وہاں چڑھ جاتے ہیں اور چھنمہ میں خزاں کی فتح تک وہیں مقیم رہتے ہیں۔ عہد رفتہ میں مہمان نوازی کا یہ عالم تھا کہ مہمان کو بلا تواضح بھیجنا ادب کے برخلاف تصور کرتے تھے اور مائدہ لذایذ میں لسی، دہی، ستو، مکھن اور نمکین چائے فراہم کی جاتی تھی۔ مگر امتداد زمانہ ان زمین دوست کسانوں کو لذاید مادیات کی طرف مائل کر چکا ہے۔ اب ان کے بچے بیرونی ممالک میں برسرروزگار ہیں اور وہ خود یہی کشائش و لذایذ ریال و دینار میں خرید کراڑاتے ہیں۔
کریس میں کسی زمانے سے بنک، ایکسچینج، ڈاک خانہ، ہسپتال، ہائی سکول اور بجلی گھر موجود ہیں۔ کریس کی سڑکیں جب تک گنگچھے کے لئے شاہراہ خاص و عام ہوا کرتی تھیں یہاں لوگوں کا ریل پیل رہتا تھا۔ مگر جب سے ضلعے کا مرکزی شاہراہ کریس کے باہر باہر سے نکل چلی یہاں کی سہولیات یکسر یوں منجمد ہوگئی جیسے کسی نے کوئی منتر پھونک دیا ہو۔ مقامی سیاح آج بھی یہاں کا رخ کرتے ہیں اور گرمیوں میں سکولوں کے بچے دور دراز سے یہاں آتے ہیں مگر اصل رکاوٹ ناپختہ سڑکیں ہیں جس پر گرد اڑاتی ہواوں سے جی چرا کر لوگ احتراز کرتے ہیں۔
مین سٹریمنگ سے زرا فاصلے پر ہونے کا کم سے کم اتنا تو فائدہ ہوا ہے کہ یہاں کی بولی اور ثقافت، نشست و برخاست اور تاریخ و ادب پر وہی پرانی چھاپ نظر آتی ہے۔ یہاں آج بھی لوگ اپنے نام کے ساتھ قوم یا خاندان کے نام سے جانے یا پکارے جاتے ہیں مثلا ڈھابہ، یاقولی بہ اور چراغلیبہ، اسی طرح محلات کے نام بھی ویسا ہی ہیں سوائے میرپی کھور کے، جیسے کشیبہ، موڑونگپہ، مون کھور، کھارپہ، پنزن، چھراتھنگ، یولجک، اوڑوبہ اور بارچھونگ وغیرہ، کیا بعید کہ اگر لوگوں کا آنا جانا زیادہ ہوتا تو جدیدیت کا جراثیم ان کے نام بھی تبدیل کر کے وزیر آباد، گلشن آباد اور محمود آباد بنا دیتے جیسے میرپی کھور کو سادات کالونی کرکے سعادت سمیٹنے کی کوشش کی گئی ہے۔
کریس تاریخی اعتبار سے بھی اہم علاقہ ہے یہاں راجگی دور میں باقاعدہ راجہ ہوا کرتا تھا جن کا خاندان اور ان کا رہائشی محل آج بھی موجود ہے۔ خانقاہ معلی کریس، معروف صوفی عارف میر مختار علیہ الرحمہ کا آستانہ اور چوپی کھر آج بھی عہد رفتہ کے فنی شاہکار کے طور ایستادہ ہیں۔ خانقاہ اور آستانہ کی تزین نو بھی اسی طرز تعمیر پر کی گئی ہے جس سے ان میں مزید چاشنی اور نکھار پیدا ہوگئی ہے۔
راجہ کا محل جس خوبصورت محل وقوع پر ایستادہ ہے اگر اس کی تزین و تعمیر نو پر توجہ دی جائے تو کسی بھی طور یہ شگر فورٹ پھونگ کھر اور یبگو کھر خپلو فورٹ سے کم خوبصورت نہیں ہے۔ تاہم اگر اس کا رخ دریا کی جانب موڑ دی جائے یا اسی طرف بھی باردہ دری اور کھڑکیاں نکال کر دوبارہ تعمیر کی جائے تو مرکزی شاہراہ سے گزرنے والوں کو کمال کا نظارہ دے سکتا ہے۔ اس کی جانب آنے والا معلق و پیادہ پل بھی کسی ایڈونچر سے کم نہیں ہے۔
بلتستان بھر کے خوبصورت ترین علاقوں میں سے کریس اب بھی وسیع، پرفضا، تہذیب و ثقافت کا امین اور قابل رسا جگہ ہے جس کی زیر تعمیر سڑک کی جلد تکمیل، تاریخی عمارتوں کی تزین و تعمیر نو، سیاحتی علاقوں کی فہرست میں شمار اور سیاحوں کے لئے سہولیات کی فراہمی پر توجہ دے کر سیاحت کے فروغ میں ایک اہم اضافہ ہو سکتا ہے۔ چھنمہ کریس میں ٹریکز، ہٹز اور شیڈز کے ساتھ ساتھ ایک خوبصورت ریستوران بنوا کر ایک جدید اور منفرد سیاحتی مقام متعارف کیا جاسکتا ہے۔
مقامی فوٹوگرافرز، سیاح اور نوجوانوں کی موضع کریس کی مقامی تنظیموں کے ذمہ داران اگر رہنمائی کریں اور اس خوبصورت اور پوشیدہ گوہر کی پذیرائی کریں تو بہت جلد علاقے کی رونقیں بحال ہوسکتی ہیں۔
x
x
- Get link
- X
- Other Apps