- Get link
- X
- Other Apps
خطہ جنت نظیر بلتستان کی دیدہ و دل خیرہ کرنے والی سیرگاہوں میں سے ایک پرتاثیر سیرگاہ، رگاموہلتور (رگانوستور)، سکردو اور شگر کے سنگم پر تھورگوپائین سے جنوب مشرق میں ایک پہاڑی گھاٹی میں گم ایک پرفضا مقام ہے۔ ساڑھے نو ہزار فٹ سطح سمندر سے بلندی پر واقع ایک گھاٹی میں گھری ہوئی اس وادی تک رسائی کے لئے سکردو کارگل شاہراہ یا سکردو شگر سنگم سے نعلین در بغلین آپ کو کم وبیش دو سے تین گھنٹے لگ سکتے ہیں۔ تاہم ایڈونچر کے شوقین جیپ سواروں کے لئے 35 منٹ تک کا قدرے عمودی چڑھائی پر مشتمل راستہ ہے جس پر بلدار سڑک برگد کے کسی درخت کی شاخ سے لپٹے ناگ کی مانند کم و بیش چار درجن سے زائد خطرناک گھماو کے ساتھ وادی کے دہانے تک پہنچا دیتی ہے۔ شروع کے کئی موڑ بہت بہتر ہے مگر جیسے جیسے چڑھائی چڑھتی ہے یہ موڑ قدرے خطرناک ہوتے جاتے ہیں۔ چار کے چار پہیوں کی طاقت والی گاڑیوں کے علاوہ باقی گاڑی سے سفر قدرے پرخطر ہوسکتا ہے تاہم زندگی کی ڈور میں جب تک دم خم ہے اور جب تک تقدیر آپ کے نگوں رہے آپ کا یہ سفر مختصر رہے گا وگرنہ کوئی بھی "موڑ" زندگی میں "ایک نیا موڑ" بن سکتا ہے۔
عنقریب چالیس کھیوڑداروں میں سے اٹھارہ مستقل رہائشی گھرانوں پر مشتمل یہ وادی، جسے تین اطراف سے عمودی، چٹیل اور پرخطر پہاڑوں نے گھیر رکھی ہے وہیں اس کے داخلی راستے کی طرف سے بھی زمین اتنی اونچی ہے کہ وادی کے دامن میں پہنچ کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ آپ کو چاروں طرف سے کسی ہیکل نے گھیر رکھا ہو ۔ پہاڑوں کی فلک بوس فصیلیں وادی کو بیرونی شور و ہنگم سے ساکن و ساکت کر دیتی ہیں۔ شور و غل سے مکمل لاآلود اس وادی پر دن دیہاڑے ھو کا عالم چھایا رہتا ہے۔ سکوت پر سکوت ایسا کہ بقول اقبال ۔۔۔!
"ایسا سکوت جس پر تقریر بھی فدا ہو"
شراب غم دنیا کو شراب غم یار میں ملا کر پینے والے قدرت کی فیاضیوں سے مکمل "ماحول" پا سکتے ہیں۔ ایسا گماں ہوتا ہے کہ دنیا کی محفلوں سے اکتائے حضرت اقبال نے اپنی نظم "ایک تمنا" میں جس جس فطری رنگینیوں کی تمنا کی ہے اگر وہ ایک بار بھی رگونوستور پہنچ جاتے وہ نظم نہ کہتے، وہ اپنی تمناوں کی دنیا پر تمناوں کو "نظم" کرنے کی بجائے مکمل "ہضم" کرنے پر تل جاتے۔
گوکہ "کھنڈرات بتاتے ہیں عمارت عظیم تھی" مگر جتنی قلیل آبادی ہے، اس حساب سے اس گاوں کی تاریخ میں کوئی نہ کوئی "ہاتھ ہونے" کا شبہ ہوتا ہے۔ وادی کی مشرقی ڈھلوان پر بدھ مت یا بون مدت کے پیرو کاروں کی قبریں مخصوص انداز دفینہ سے واضح ہوتی ہیں۔ جن میں بعض میں شگاف بھی کئے یا ہوئے دکھائی دیتے ہیں جو کہ ملک صبا کی بلقیسوں کے مقامی عاشقوں نے سلیمانی دانوں کی تلاش میں ادھیڑ ڈالی ہیں۔ کہتے ہیں کہ خوابوں خیالوں میں جنات کی مداخلت کی رہین ان عاشقوں کی سرقہ سامانیوں سے یہ قبریں اب کسی قدر محفوظ ہیں۔ تاہم تحقیق کے دروازے ان خصم بھسم قبروں کے شگافوں کی مانند اب بھی صاحبان فہم و فراست پر بے جا وا ہوئے پڑے ہیں۔ اگر قانون فطرت میں انسان موخول نہ ہوں تو ایک طرف فطرت کی پرسکون گود ہے تو دوسری طرف بدھ مت کے خاموش گور۔
یہ بعید نہیں کہ بدھ مت کے "منگ" یا بون مت کے منگولوں کے زمانے میں ریاض و نیاز اور فطرت سے روحانی فیض پانے کے لئے سورج کے عروج و زوال کے اوقات میں روحانی فیض پانے کے لئے خصوصی ریاض و جتن کرنے والے کثرت یہاں آتے رہے ہوں گے۔ یا یہیں پر ان کی آبادی تھی جنہیں بعد میں جنوب مغرب کی جانب دیوسائی کے راستے بھگا دیئے ہوں گے یا نیچے کی طرف سے ہلہ بولنے والوں کے ہاتھوں یہاں کے لوگ لقمہ اجل بن گئے ہوں گے۔ تاہم قبروں کے علاوہ عمارتوں کے اتنے قدیم شواہد بادی النظر میں دکھائی نہیں دیتے۔
اس وادی میں زندگی بہران سے دو چار ہے۔ قلیل آبادی کی نسل نوخیز میں سے اٹھارہ بیس طلبہ کے لئے ایک ابتدائی مدرسہ ہے۔ اذان کی آواز بھی آرہی تھی مگر گنبدوں اور میناروں والی مسجد دکھائی نہ دی، پینے کے صاف پانی کے چند عوامی نلکے ہیں، سردیوں میں خواتین کو چشمے تک جا کر پانی ڈھو کر لانا پڑتا ہے۔ چالیس گھرانوں میں چار ملازمین ہیں ان میں سے دو فوجی جوان ہیں۔
مقامی سیاح معدودے ہی ہمت کر کے یہاں آتے ہیں، کھلی فضا میں کھاتے پیتے اور کچرہ چھوڑ کر چلتا کرتے ہیں۔ جگہے کی مناسبت اور فطری فیاضیوں سے لطف اٹھانے والے دن کو دن اور رات کو رات کی طرح گزار سکتے ہیں۔ گرمیوں کی خنک راتوں میں منجی پر پھیلا بندہ جب آسمان کی طرف نگاہیں اٹھا کر دیکھتا ہے اور پراسرار طور پر سنسان رات میں دل گھبرا جاتا ہے۔ پھر ہجر و وصال کی کھٹی میٹھی یادوں کی چادر اوڑھ کر مست ہوجاتے ہیں۔
طبعیت اپنی گھبراتی ہے جب سنسان راتوں میں
ہم ایسے میں تیری یادوں کی چادر تان لیتے ہیں ۔۔۔!
صبح دم جب زمیندار کھیتوں میں نکل پڑتے ہیں تو بھیڑبکریوں کی آوازوں، کوئل و پرندوں کے چہچہانے اور گلی سے گزرتی خواتین کی کاناپوسیوں تک کی آوازیں خاموشی سے چھن چھن کر کانوں تک آتی ہیں، نیم وا آنکھیں جب تازہ دم ٹھنڈی ٹھنڈی کرنوں سے چندیا جاتی ہیں تو فطرت کی گود سے انگڑائیاں لیتا اور جمائیاں بھرتا ہوا انسان دوبارہ زندگی کی دوڑ دھوپ میں شامل ہوجاتا ہے۔
سیر سپاٹے کے لئے ایسی جگہیں فطرت کے دلدادوں کو دعوت تجربہ دے رہی ہوتی ہیں۔ سڑک کی تعمیر سے باہر کے لوگوں کے ساتھ ساتھ باہر کی ثقافت بھی یہاں آتی دکھائی دیتی ہے جس کی گواہ اس سرد موسم میں تعمیر شدہ آہنی چھتوں اور سیمنٹ کی فصیلوں سے ایستادہ چند روایتی عمارتیں ہیں جو روایتی تعمیرات میں بے جوڑ سی پیوندکاری لگتی ہیں۔
رگانوستور بلتی میں "خوشیوں کی گمشدگی" سے ماخوذ ہیں مگر ہم نے اس کا نام "رگانو ہلتور" سن رکھا ہے۔ اسی طرح ایک اور نام "کوہلتور" بھی ایک نالے میں واقع ہے۔ عین ممکن ہے کہ لفظ "ہلتور" بھی ستور کی طرح کوئی بامعنی لفظ ہوگا جو موجودہ دور پرفتن میں احساس، ہمدردی اور انسانیت کی طرح معدوم ہوچکا ہو۔
- Get link
- X
- Other Apps
