"فیڈرل بورڈ کا امتحان" ۔۔۔!!

اتفاق سے فیڈرل بورڈ کی جانب سے منعقدہ ایک تقریب میں بیٹھنے کا موقع ملا۔ ڈائریکٹر فیڈرل بورڈ حاضرین سے مخاطب تھے جہاں چھوٹی چھوٹی کرسیوں پر بڑے بااختیار مدرسین براجمان تھے۔ ڈائریکٹر صاحب کی شخصیت جتنی سنجیدہ و متین نظر آتی تھی اتنا ہی ان کا بیان شستہ و برجستہ اور ظرافت سے بھرپور تھا۔
موصوف فیڈرل بورڈ کی جانب سے ثانوی اور اعلی ثانوی امتحانات کے لئے وضع کی گئی نئی پالیسی پر ممتحنین کی آگہی کی غرض سے وارد ہوئے تھے۔ گوکہ ہم قدرے دیر آید کہ درست آید کے مصداق اپنی اوقات کے عین برابر آخری صف میں کسی ننھے بچے کی کرسی پر بیٹھے تھے۔ بچے نے کرسی کے بازو پر کیل سے اپنا نام و تخلص کندہ کر رکھا تھا۔ درمیان میں ایک منچلے نے دل زخمی بھی بنوایا ہوا تھا۔ بچوں کے لئے بنائی گئی کرسیوں پر بڑوں کے گھنٹوں بیٹھے رہنے سے کرسی پر کیا اثر پڑ رہا تھا یہ تو نہ معلوم مگر جب چائے کے وقفے میں اٹھ جاتے تو محدود حدود اربعہ اور تختے کی سختی سے پچھوڑاے کچھ لمحوں کے لئے چوکور چوکور سے محسوس ہونے لگتے تھے۔ مزیر برآں یکدم اٹھنے سے پچھواڑے پر گردش خون میں جماو کے باعث جھری جھری سی پھیلتی محسوس ہوتی تھی۔ اس صبر آزمائی اور استقامت کی وجہ فقط ڈائریکٹر موصوف کی باتیں تھیں۔
القصہ، فیڈرل بورڈ اب امتحانات میں پرچے حل کرنے کے لئے جوابی کاغذ کی شکل تبدیل کرکے ای شیٹ متعارف کروا رہا ہے۔ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ اب طلباء کو امتحان میں جواب اپنی مرضی کی ترتیب سے لکھوانے، یا بلا ترتیب سوال نمبر کے حساب میں اوپر نیچے یا پس و پیش کرکے لکھنے کی سہولت اب نہیں ملے گی۔بورڈ اب ای شیٹ پر متعلقہ سوال نمبر کے لئے درکار و ممکنہ درکار جگہ پہلے ہی ترتیب وار مہیا کر دے گا۔ ہر سوال کا جواب اسی مختص جگہے پر حصہ وار لکھے گا۔ سوال چھوڑنے پر اگلے سوال کے لئے اسی کا مقررہ صفحہ و جگہ استعمال میں آئے گا۔ ہر صفحہ کا بار کوڈ موجود ہوگا جو کمپیوٹر سکین کرکے مارکنگ کرنے والے کو بجھوایا جا سکے گا۔ مارکنگ کرنے والا متعلقہ صفحہ پر کوڈ ورڈ میں نمبر کاٹنے کے وجوہات درج کرے گا۔ ہاشیہ چھوڑنے کی اب اجازت نہیں ہوگی۔ پینل مارکنگ کا نظام متعارف ہوگا اور دو مارکنگ کرنے والوں کی طرف سے دئے گئے نمبر میں زیادہ فرق پر کمپیوٹر خود بورڈ کو ایک ریڈ الرٹ جاری کرے گا۔ جس کے بعد باہمی مشاورت کے بعد معاملے طے کر مارکنگ کو منصفانہ حل کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ ڈیجٹل حاضری کا سلسلہ ہوگا جو فیڈرل بورڈ کی ایپ پر کسی بھی انڈرائیڈ فون سے لے سکے گا۔ جس کا پاس ورڈ متعلقہ ممتحن کو دیا گیا کوڈ ہوگا۔وغیرہ وغیرہ، فی الحال فیڈرل بورڈ چھے مضامین بشمول کمپیوٹر کا مضمون اس سال سے آن سکرین مارکنگ اور ای شیٹ پر متعارف کرائے گا۔
اسی دوران ڈائریکٹر صاحب نے پرچے حل کرنے کے روایتی طریقوں پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ اسی فیصد بچیاں امتحانی پرچہ حل کرتے ہوئے پہلے صفحے پر جلی حروف میں بسم اللہ الرحمان الرحیم لکھدیتی ہیں اس کے بعد اگلے صفحے پر امتحان میں کامیابی کی دوسری مجرب دعا معہ دلکش بیل بوٹے۔ لڑکے زیادہ تر مارجن لائن بڑا بڑا رکھ کر جواب میں طوالت کا تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ بچے پرچہ شروع ہوتے ہی یہ تاثر دینے کے لئے کہ وہ لکھ تو رہا ہے، ایسا نہیں کہ وہ پریشان بیٹھا ہوا ہو، ایک ایک کرکے پورے کا پورا سوال پیپر جوابی کاپی پر اتارتے ہیں، تاکہ وہ مصروف نظر آئے۔
اس کے بعد ایک اور اہم نکتے کی جانب اشارہ فرماتے ہوئے بولے کہ ایم او آر شیٹ پر پرچہ حل کرتے ہوئے ہر سوال کے سامنے کچھ چناوتیاں دی ہوئی ہوتی ہیں ان میں سے درست آپشن بچے نے چننا ہوتا ہے اور اس آپش کے سامنے گول دائرے میں رنگ بھر کر جواب دیتے ہیں۔
موصوف فرماتے ہیں کہ ان کے ہاں کسی شہر کے مرکز امتحان میں پرچے اجتماعی عبادات کے طور پر مل جل کر حل کروا رہے تھے۔ اس میں ایک بہت ہی غضب کی تیکنیک کا استعمال ہورہا تھا۔ وہ تیکنیک یہ تھی کہ ممتحن خود بچوں کو لقمہ دے رہا تھا۔ اس شیٹ کو حل کرتے ہوئے اگر درست جواب "آپشن ون" ہوتا تو وہ سب کو "سائلینس" کہا کرتا تھا، اگر آپشن دو ہوتا تو "سائلنس پلیز" اور اگر تین ہو تو "کیپ سائلنس پلیز" یوں جو آپشن کا نمبر ہوتا اتنے الفاظ پر مشتمل وہ انسٹرکشن دیتا، طلبہ اسی میں لفظ کو گن کر آپشن کو ٹیک کرتا۔
اس کے سدباب کے لئے اب بورڈ والے ایسی شیٹ پر سوالوں کی ترتیب میں رد وبدل کر رہے ہیں۔
ایک اور بات انہوں نے ایسی بتائی جو ہمارے ہاں عہد رفتہ میں مشہور تھی۔ ڈائریکٹر صاحب نے کہا کہ جب وہ چوتھی کلاس میں پڑھتا تھا ان دنوں رفیق صاحب ان کا استاد ہوا کرتا تھا۔ کلاس میں بچے بہت زیادہ ہوتے تھے اور روز امتحان رفیق صاحب کو روزانہ اتنے ہی بچوں کے پرچے چیک کرنا پڑتا تھا۔ اس لئے روز روز اتنے پرچے لاتعداد سوالات اور متنوع جوابات کو ایک ایک کر کے پڑھنا اس کے تن نازک سے ممکن نظر نہیں آتا تھا۔ اس لئے جماعت میں یہ بات مشہور تھی کہ رفیق صاحب سحر کی نماز پڑھنے کے بعد سارے پرچے اپنی چھت پر لے جاتے ہیں اور اللہ کا نام لے کر سب نیچے گرا دیتے ہیں اب جتنے پرچے صحن میں پڑی چار پائی پر ٹک جاتے وہی لڑکے پاس قرار پاتے اور جو جو نیچے گر جاتے وہ فیل۔ حسن اتفاق سے ان دنوں رفیق صاحب کا بیٹا جاوید بھی ڈائریکٹر صاحب کا کلاس فیلو ہوق کرتا تھا تو سارے ہم جماعت جاوید سے تقاضا کیا کرتے تھے یار جاوید جب بھی ہمارے پرچے چیک کرنے ہوں آپ مہربانی کر کے صحن میں چارپائیاں دو رکھوا دینا تاکہ سب پاس ہی ہو جائیں۔
ڈائریکٹر صاحب کی باتیں تھیں ہی ایسی کہ دل میں گھر کر گئیں۔ موصوف نے ہمارے ہیڈ ماسٹر، میرے استاد محترم کی استدعا پر بلتستان میں فیڈرل بورڈ کا آفس دوبارہ فعال کرنے کا وعدہ بھی کیا۔۔۔۔!!
خدا ایسے آفسیران کو سلامت رکھیں۔ آمین
x
x