- Get link
- X
- Other Apps
ڈاون سینڈروم، شادولہ کے چوہے والے سر لئے، عنابی رنگ کے کپڑے میں ملبوس، سر پر بڑی بے دردی سے قینچی چلائی گئی بالکل بے ڈھنگا ہیر سٹائل مگر منہ پر مسکراہٹ، غالبا اس ملنگ منش مشتنڈے کا نام جاوید ہے۔ "بوشی" شینا ذبان میں بلی کو کہتے ہیں اور یہ ایک اور مشتنڈے کی چھیڑ تھی جس کا جاوید کے ساتھ چھاچھ تو چھاچھ پانی بھی نہیں چھنتا تھا۔ ہسپتال روڈ پر چوک سے زرا نیچے چند کھوکھے ہیں جہاں ابلے آلو بکتے ہیں، اکثر منچلے کھوکھوں پر بیٹھ کر اڑاتے ہیں تو وہ حسب منشاء نمک مرچ بھی چھڑک سکتے ہیں جو ان کو پرچ میں رکھ کر دیا جاتا ہے۔ انہی کے آس پاس چنگیزی گولڈن کیفے نامی ہوٹل ہوتا تھا، غالبا سلیم چنگیزی اس ہوٹل کا کل والی وارث تھا۔ حلیے کلیے سے سلیم کے مورث اعلی چنگیز خان کے شجرے سے لگتے ہیں کیا بعید کہ اس نے ہوٹل کا نام اسی مناسبت سے چنگیزی گولڈن کیفے رکھا ہو۔ ہسپتال چوک سے سیدھے برمس کی طرف بالکل عمودی چڑھائی چڑھتی ہے۔ وہیں کہیں ہم رہائش رکھتے تھے۔ ہسپتال چوک سے ذرا اوپر کو جہاں اب ہسپتال کی کوئی اور عمارت بن چکی ہے وہاں آپریشن تھیٹر ہوا کرتا تھا۔ اسی عمارت کی چاردیواری سے زرا اوپر ایک مسجد تھی، مسجد کے صدر دروازے کے ساتھ چنار کا ایک دیوقامت درخت تھا، غالبا ابھی وہ وہاں موجود نہیں، اسی درخت کے ساتھ کسی بابے کی ایک چھوٹی سی دکان تھی شاید وہ بابا اسی مسجد کا کوئی مجاور وجاور ہوا کرتا تھا۔ گلگت میں کتے بہت ہیں۔ کتے تو سکردو میں بھی ناپید نہیں مگر وہاں کاٹنے والے بلکہ بھانولے کتوں کی بھی بہتات تھی۔ شوئیں کو پتھر مارنا وہاں کے بھی لڑکے فرض عین سمجھتے ہیں اس لئے اکثر راتوں کو ادھر ادھر بھدکنے والوں کے حضور وہ اپنی نالہ نا رسا رکھتے تھے، شنوائی نہ کرنے والوں کے دامن نہ صرف کھینچ لیتے بلکہ تار تار کرنے سے بھی گریز کہاں کرتے تھے۔ انہی دنوں میں جاوید اور اسی طبعیت کا ایک اور لڑکا بھی انہی کھوکھوں کے آس پاس پھرتے نظر آتے تھے۔ جن شرارتی لڑکوں کو دن کو کتے مہیا نہیں ہوتے وہ جاوید اور اسی لڑکے کو بھڑ دیا کرتے اور بدھے قہقہے لگا کر وقت گزاری کیا کرتے تھے۔ ہسپتال چوک کے پاس ایک نان بائی کی دکان تھی وہیں سے زرا اوپر ہسپتال روبہ جنوب العصر میڈیکل سٹور تھا۔ وہیں پاس ہی ایک اور فقیر منش حیوان ناطق کا ڈھیرا تھا۔ ان کا نام تو نہیں معلوم مگر حدود و قیود ملبوسات سے آزاد اس ننگ وجود کے دائیں کان کے ساتھ کوئی پھوڑا نکلا ہوا تھا اور اس کی عادت تھی یا پھر تکلیف کی وجہ سے کہ اس کا ایک ہاتھ ہمیشہ اسی کان پر دھرا رہتا تھا۔ اس کو بھی نہ بخشنے والے ہوا کرتے تھے۔ یہیں سے مین بازار کی طرف بڑھتے ایک درزی کی دکان تھی، سنتے تھے کہ وہ پشتنی باشندہ ضلع شگر کے تھے مگر وہیں مقیم تھے اور وہیں کے لگتے تھے۔ اس کے ساتھ حراموش کے ایک بابے کی دکان تھی جس کے ساتھ علی بکڈپو تھا جس کا سائن بورڈ آج بھی ویسا کا ویسا ہے۔ سڑک کی حالت اب پہلے سے کشادہ ہے اور بہتر بھی۔ اسی لائن میں پنجاب کے نائی کی دکان تھی اس کے بعد مناوری ایڈورٹائزنگ آرٹ والے آرٹسٹ کی دکان تھی۔ اس زمانے میں ہاتھ کی صفائی اور دستکاری کے نمونے استادوں اور کاریگروں کے کمال کے محیرالعقول شاہکاریں ہوا کرتی تھیں۔ اس کے سامنے عبدالواحد کا کمپیئن آفس تھا۔ اس سے زرا نیچے رقص سنیما چوک ہے۔ رقص سنیما ان دنوں عروج پر تھا۔ وہاں نہ صرف فلمیں چلتی تھیں بلکہ لوگوں کا اژدھام مچا رہتا تھا۔ سنیما کی عمارت اندر سے کھلی ڈھلی تھی۔ جنریٹر روم بھی تھا۔ چوک پر جلی حروف میں اس دن کے خصوصی شوز کے اشتہارات اور وال چاکنگ بھی ہوئی ہوتی تھی۔ وہاں سے جماعت خانہ بازار کی طرف بڑھتے ہیں تو رحمت ہارڈوئیر کی دکان جو ابھی ہے وہ سب سے پرانی دکان ہے۔ چوک پر ہی مشہ بروم بیکری تھی جو بعد ازاں بند ہوگئی۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی سنٹر کے نام سے جماعت خانہ کے بالمقابل ایک کمپیوٹر ٹریننگ سنٹر بھی چلا کرتا تھا۔ جماعت خانہ کے سامنے ایک بہت بڑا چنار کا درخت تھا اسی درخت کے ساتھ قدرے نشیبی نیم دائروی چوپال نما جگہے سے ہنزہ نگر کے لئے ہائی روف کوچز چلتی تھیں۔ کھڑی باغ چوک پر ابھی وزارت تعلیم کا دفتر ہے اس وقت ناظم تعلیمات کا دفتر ہوا کرتا تھا۔ بازار کی طرف المرتضی سٹیشنرز آج بھی ایک معیاری دکان کی صورت میں موجود ہے۔ این ایل آئی مارکیٹ سے قبل اس چوک پر ایک اور چنار کا درخت تھا جس پر رقص سنیما کی فلموں کے اشتہارات آویزاں ہوا کرتے تھے۔ وہاں سے کنوداس کا راستہ سڑک کی صورت میں نہ تھا۔ کنوداس کو اسی لکڑی والے معلق پل سے پار کرکے جایا کرتے تھے۔ پل کے دھانے پر پٹو سے گلگتی ٹوپیاں بنوانے والوں کی دکانوں کی لائنیں تھی۔ گلی میں گھستے ہی ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اب ٹوپی بازار میں پہنچ گئے ہیں۔ اسی جڑا ایک واقعہ بھی مشہور ہے کہ کوئی غیر مقامی بندہ کنوداس کی طرف سے اسی معلق پل کو پار کرکے شہر میں داخل ہوا چاہتا تھا کہ اس نے ٹوپیوں کی وہ دکانیں دیکھی جس کے دروازے پر ٹوپیوں کی ایسی بھرمار تھی کہ ناگاہ اسے لگا کہ شاید شہر میں داخل ہونے سے قبل ٹوپیاں اتار کر یہیں لٹکا کر جاتے ہوں گے، اسی زعم میں اس نے بھی چپ چاپ اپنی گلگتی ٹوپی اتار کر وہیں ٹانک دی اور شہر وارد ہوا۔ دن بھر ادھر ادھر پھرنے کے بعد واپس جاتے ہوئے اس نے وہیں دکان سے اپنی ٹوپی اٹھا کر سر پر رکھدی اور چلتا کئے تھے کہ دکاندار نے اس کو دھر لیا اور ٹوپی کی قیمت چکانے کا کہا۔ اس پر بڑی ان بن ہونے کے بعد دوچند مقامی افراد نے معاملہ رفع دفع کیا۔
گھڑی باغ سے کرنل حسن مارکیٹ کی طرف بڑھتے ہیں تو مارکیٹ کے دروازے پر ہی ایک گھڑی ساز کی دکان تھی اس کے ساتھ چند دوا فروش بھی تھے اور ایک حکیم کی ہٹی بھی تھی۔ کرنل حسن شاپنگ مال میں داخل ہوتے ہی آپ کی نظریں ایک سائن بورڈ پر لامحالہ پڑ جاتی تھی جہاں ایک مووی میکر کی دکان کے سائن بورڈ پر ایک شخص کی ویڈیو کمیرہ کندھوں پر رکھے بڑی سی تصویر لگی ہوئی تھی۔ اس سے آگے مشہ بروم ٹورز اور اس کے عقب میں نیٹکو کے دفاتر موجود تھے۔ جہاں بیڈفورڈ اور نسان ٹرک نما بسوں کی پیانو کے ترنگ میں بجتی ہارن سے کان گس جاتے تھے۔ اس کے سامنے چند کچی دکانیں تھیں جو آج بھی بقدر ہست و بود دکھائی دیتی ہیں۔ گلگت کی سڑکیں سکردو کی نسبت تنگ ہیں مگر اب وہاں صفائی کا یہ عالم ہے کہ گاڑی میں لبریز چائے کی پیالی تھامے ڈرائیونگ کر سکتے ہیں تاہم سڑک پر صرف آپ کی گاڑی ہو وگرنہ دن کے وقت یہ بھی اندازہ لگانا مشکل ہو جاتا ہے کہ آخر کونسی گاڑی آرہی ہے اور کونسی گاڑی جا رہی ہے اور آپ آنے والی لائن میں ہے یا جانے والی۔ جاوید آج کل نظر نہیں آتا البتہ بوشو کو عمر رواں اس نہج پر لا چکا ہے کہ اس کی داڑھی کی گھنیری و گھمبیر حالت دیکھ کر یکایک کسی جوگی کا گماں ہوتا ہے۔ وہ آج بھی عین اسی مستی اور سرور میں بازار ناپتے نظر آتے ہیں۔
(یادیں ۔۔۔۔)
x
گھڑی باغ سے کرنل حسن مارکیٹ کی طرف بڑھتے ہیں تو مارکیٹ کے دروازے پر ہی ایک گھڑی ساز کی دکان تھی اس کے ساتھ چند دوا فروش بھی تھے اور ایک حکیم کی ہٹی بھی تھی۔ کرنل حسن شاپنگ مال میں داخل ہوتے ہی آپ کی نظریں ایک سائن بورڈ پر لامحالہ پڑ جاتی تھی جہاں ایک مووی میکر کی دکان کے سائن بورڈ پر ایک شخص کی ویڈیو کمیرہ کندھوں پر رکھے بڑی سی تصویر لگی ہوئی تھی۔ اس سے آگے مشہ بروم ٹورز اور اس کے عقب میں نیٹکو کے دفاتر موجود تھے۔ جہاں بیڈفورڈ اور نسان ٹرک نما بسوں کی پیانو کے ترنگ میں بجتی ہارن سے کان گس جاتے تھے۔ اس کے سامنے چند کچی دکانیں تھیں جو آج بھی بقدر ہست و بود دکھائی دیتی ہیں۔ گلگت کی سڑکیں سکردو کی نسبت تنگ ہیں مگر اب وہاں صفائی کا یہ عالم ہے کہ گاڑی میں لبریز چائے کی پیالی تھامے ڈرائیونگ کر سکتے ہیں تاہم سڑک پر صرف آپ کی گاڑی ہو وگرنہ دن کے وقت یہ بھی اندازہ لگانا مشکل ہو جاتا ہے کہ آخر کونسی گاڑی آرہی ہے اور کونسی گاڑی جا رہی ہے اور آپ آنے والی لائن میں ہے یا جانے والی۔ جاوید آج کل نظر نہیں آتا البتہ بوشو کو عمر رواں اس نہج پر لا چکا ہے کہ اس کی داڑھی کی گھنیری و گھمبیر حالت دیکھ کر یکایک کسی جوگی کا گماں ہوتا ہے۔ وہ آج بھی عین اسی مستی اور سرور میں بازار ناپتے نظر آتے ہیں۔
(یادیں ۔۔۔۔)
x
- Get link
- X
- Other Apps